خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 672
خطبات ناصر جلد اول ۶۷۲ خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء چونکہ عقل تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور وہ جو خدائے تعالیٰ کے بتائے قوانین پر عمل پیرا ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو الہام کرتا ہے اور نئے سے نئے مضامین ان کے دماغ میں ڈالتا ہے عقلی میدان میں علم کے میدان میں، خواہ کوئی مسلمان ہو یا عیسائی ہو یا دہر یہ ہو یا کسی مذہب کے ساتھ یا کسی بد مذہبیت کے ساتھ یا لامذہبیت کے ساتھ اس کا تعلق ہو کوئی فرق نہیں پڑتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے عقل کو مشترک ورثہ بنا کر انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے۔قرآن یہ کہتا ہے کہ علاوہ بعض دوسری ہدایتوں کے جو آسمان سے نازل ہوتی ہیں ہم عقل کی بھی راہنمائی کرتے ہیں۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو بڑے لطیف پیرایہ میں بیان کیا ہے کہ وحی والہام کے ذریعہ انسانی عقلوں کو اللہ تعالیٰ تیز کرتا ہے اور پھر ذہن رسا سے جو علوم پرورش پاتے ہیں قرآن کریم ان سے خادموں کی طرح خدمت لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی ہستی اور خالقیت اور اس کی توحید اور قدرت اور رحم اور قیومی اور مجازات وغیرہ صفات کی شناخت کے لئے جہاں تک علوم عقلیہ کا تعلق ہے استدلالی طریق کو کامل طور پر استعمال کیا ہے اور اس استدلال کے ضمن میں۔۔۔۔تمام علوم کو نہایت لطیف و موزوں طور پر بیان کیا ہے۔۔۔۔اور۔۔علوم مذکورہ سے ایک ایسی شائستہ خدمت لی ہے جو کبھی کسی انسان نے نہیں لی۔“ اور یہ قرآن کریم کا کمال ہے کہ باقی ادیان تو رائج الوقت علوم کے سامنے دب سکتے ہیں لیکن اسلام ہی ایک ایسا دین ہے اور قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جو کسی عقلی علم کے سامنے دیتی نہیں بلکہ اس کو خادم سمجھتی اور اس سے خدمت لیتی ہے۔،، ھدایة کے دوسرے معنی شریعت کے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو۔تو ھدی للعلمین کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ شریعت جو عالمین کے لئے ، تمام جہانوں اور تمام زمانوں کے لئے ہے اور صرف قرآن کریم ہی ھدی للعلمین ہے اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو مخاطب کر کے فرما یا اِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمْ جَمِيعًا۔(الاعراف : ۱۵۹) قرآن کریم بھرا