خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 668
خطبات ناصر جلد اول ۶۶۸ خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء تیسری غرض تعمیر کعبہ کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی کہ هُدًى تِلْعلمين تمام جہانوں کے لئے اسے ہدایت کا مرکز بنایا جائے گا۔یعنی یہاں ایک ایسی شریعت نازل ہو گی جس کا تعلق کسی ایک قوم یا کسی ایک زمانہ کے ساتھ نہ ہوگا بلکہ علمین کے ساتھ ہوگا۔تمام اقوام کے ساتھ ہو گا۔تمام اکناف عالم کے ساتھ ہو گا تمام جہانوں کے ساتھ ہوگا اور تمام زمانوں کے ساتھ ہوگا۔اس سلسلہ میں پہلی بات یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ پہلی کتب سماوی کے نزول کے وقت انسان کی کمزور استعداد یں اس لائق نہ تھیں کہ وہ کامل اور مکمل شریعت کی متحمل ہوسکتیں۔اس لئے ان میں سے کسی کا بھی یہ دعوی نہ تھا کہ وہ تمام اقوام عالم اور ہر زمانہ کے لئے ہیں۔لِلْعَالَمِينَ ہونے کا دعویٰ قرآن سے پہلے کسی شریعت نے نہیں کیا۔صرف قرآن کریم نے ہی یہ دعوی کیا ہے اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی دنیا کو پکار کر کہا کہ میں تم سب کی طرف خدا کا رسول ہوں۔قرآن کریم میں بہت سی آیات اس مضمون کی پائی جاتی ہیں۔میں نمونہ کے طور پر چند ایک یہاں بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَنَزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِنْيَانَا لِكُلِّ شَيْءٍ - (النحل : ٩٠) یعنی ہم نے تیرے پر وہ کتاب اتاری ہے جس میں ہر ایک چیز اور ہر ایک تعلیم کو بیان کر دیا گیا ہے، جو ہم بنی نوع انسان کی روحانی ترقیات کے لئے بیان کرنا چاہتے تھے یعنی ہمارے علم کامل میں جو تعلیمیں بنی نوع انسان کی اعلیٰ روحانی ترقیات کے لئے ضروری تھیں وہ ہم نے اس کتاب میں بیان کر دی ہیں اور دوسری جگہ فرمایا مَا فَرَّطْنَا فِي الكتب مِنْ شَيْءٍ (الانعام :۳۹) یعنی بنی نوع انسان کی کامل استعدادوں کی صحیح نشو و نما کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت تھی وہ اس میں بیان ہو گئی ہے اور کوئی تعلیم اس کے باہر نہیں رہی اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ دعویٰ کیا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُم دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔(المائدة : ۴) یعنی قرآن کریم کے ذریعہ دین اپنے کمال کو اور روحانی نعمتیں اپنے انتہا کو پہنچ گئی ہیں۔اب صرف اسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں صریح یہ بیان ہے کہ قرآن شریف نے ہی کامل تعلیم عطا کی ہے اور