خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 667
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء کتاب مبارک کی کامل پیروی کرو (اتَّبِعُوهُ ) اس سے تمہیں دو فائدے پہنچیں گے۔ایک تو یہ کہ تم خدا کی پناہ میں آ جاؤ گے خدا تمہاری ڈھال بن جائے گا اور وہ تمام شیطانی وساوس سے تمہیں بچائے گا کیونکہ اس کتاب مبارک کی اتباع کے بغیر تقویٰ کی صحیح راہوں کا عرفان بھی حاصل نہیں ہوتا اور ان پر چل کر اللہ تعالیٰ کی کامل حفاظت کے اندر بھی انسان نہیں آسکتا اور دوسرا نتیجہ اس کا یہ نکلے گا کہ تُرحَمُونَ اللہ تعالیٰ کے رحم کے تم مستحق ٹھہرو گے اور اس کے انعامات بے پایاں کے نتیجہ میں جسمانی اور روحانی آسودگی تمہیں حاصل ہوگی۔اسی طرح دوسری جگہ (سورۃ الانعام کی آیت ۹۳ میں ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَهذَا كِتَب اَنْزَلْنَهُ مُبْرَكَ مُصَدِّقُ الَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا - یعنی یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے پہلی تمام امتوں کی ہر قسم کی برکات کی جامع ہے۔(مُبَارَك) اور ان بشارتوں اور پیشگوئیوں کے مطابق نازل ہوئی ہے یہ کتاب ، جو اس کتاب کے متعلق پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں۔نیز ان تمام شرائع سابقہ کی بنیادی صداقتوں اور ہدایتوں پر مہر تصدیق ثبت کرنے والی ہے ( اس کے اندر ان کو جمع کر دیا گیا ہے ) اسی طرح ابراهیمی قربانیوں اور دعاؤں کا یہ ثمرہ ہے اس لئے تم اہل مکہ اور اہل عرب کو خبر دار کرو کہ جس اکمل شریعت کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہوا اور موجودہ شریعت تم پر نازل ہوگئی۔اگر تم اس سے منہ پھیرو گے تو جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ تمہیں پہلے سے خبر دار کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے غضب کے تم مور د بنو گے اور عَذَابُ النَّارِ کی طرف گھسیٹ کر تمہیں لے جایا جائے گا۔اس آیت میں بڑی وضاحت سے یہ مضمون پایا جاتا ہے کہ مُبَارَك کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور ابراہیم کی پیشگوئیوں کے ساتھ ہے لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا میں مضمون بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔تو ہر دو معنی کے لحاظ سے یہ خانہ خدا مبارک اس وقت بنا جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے دنیا کے دل میں مکہ کی محبت پیدا کی گئی اور دنیا کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مکہ میں شریعت اسلامی کا نزول ہوا۔