خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 657 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 657

خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۲۱ را پریل ۱۹۶۷ء بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کر دی گئی ہے اور ایک اُمت ایسی تیار ہو چکی ہے جو اخْرِجَتْ لِلنَّائی ہے۔وہ تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے۔اور اس کی دلیل یہاں یہ دی ہے کہ یہ خیر امت ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ہے تمام دنیا کی بھلائی کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے اور یہ دلیل یوں ہے کہ اگر آپ تمام دنیا کی شریعتوں پر غور کریں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ تمام شریعتیں اس قوم کی استعداد کے مطابق نازل ہوتی رہی ہیں جس قوم کی طرف ان کو نازل کیا جاتا رہا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی طرف جو شریعت بھیجی گئی اس شریعت سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی روحانی استعداد میں اور صلاحیتیں کیا تھیں جو شریعت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف نازل ہوئی اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کی روحانی صلاحیتیں اور استعداد میں کیا تھیں۔باقی سارے انبیاء کی قوموں کا بھی یہی حال تھا بہر حال اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو شریعت بھی جس قوم کی طرف نازل کی جاتی ہے وہ اس قوم کی روحانی صلاحیتوں اور استعدادوں کو مدنظر رکھ کر نازل کی جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی فرد یا کسی قوم پر وہ بوجھ نہیں ڈالتا جس کو وہ برداشت نہ کر سکے۔دوسری حقیقت جو بڑی واضح ہے وہ یہ ہے کہ قرآنی شریعت پہلی تمام شریعتوں کے مقابلہ میں اکمل اور اتم اور کامل اور مکمل ہے۔اگر آپ پہلی شرائع کے احکام ( اوامر ونواہی) کو قرآن کریم کے احکام کے مقابلہ پر رکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ قرآن کریم میں چھ سات صد سے زائد احکام اوامر و نواہی) اس اُمت کے لئے نازل کئے گئے ہیں ان کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر معدودے چندا حکام کا نزول ہوا۔پھر سینکڑوں ایسے احکام قرآنیہ ہیں جو پہلی کسی شریعت میں بھی ہمیں نظر نہیں آتے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلی شرائع کے احکام ( اوامر ونواہی ) محدود تھے بوجہ اس کے کہ اس قوم کی استعداد یں محدود تھیں جس کی طرف انہیں نازل کیا گیا تھا اور قرآن کریم کا ایک کامل اور مکمل شریعت ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ بنی نوع انسان اس زمانہ میں جب قرآن کریم نازل ہوا کامل روحانی استعدادوں کے حامل تھے ورنہ قرآن کریم ان کی طرف نازل نہ ہوتا۔پس قرآنی تعلیمات کے کمالات خاصہ اس اُمت کے استعدادی کمالات پر شاہد ہیں۔