خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 635 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 635

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۳۵ خطبہ جمعہ ۳۱ / مارچ ۱۹۶۷ء پہلی اُمتوں میں سے ہر ایک نے کوئی نہ کوئی منطقی اور غیر تسلی بخش دلیل ڈھونڈ کر یہ دعوی کر دیا کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق قائم نہیں ہو سکتا کہ انسان اس کے قرب کو، اس کی وحی کو، سچے رؤیا اور کشوف کو اور آئندہ کے متعلق پیشگوئیوں کو حاصل کر سکے تو قرب کے ان دروازوں کو پہلی ہر امت نے اپنے پر بند کر لیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک ایسی اُمت مسلمہ کا قیام بیت اللہ کی تعمیر سے مدنظر ہے کہ قیامت تک ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے نشانات ظاہر ہوتے رہیں گے اور اپنے نشانات اور استجابت دعا اور قربانیوں کا دنیا میں پھل پانے کے نتیجہ میں وہ اُمت دنیا پر یہ ثابت کرتی رہے گی کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا ایک زندہ خدا ہے۔ایک طاقت ور خدا ہے۔وہ بڑا رحم کرنے والا اور پیار کرنے والا خدا ہے وہ ایسے بندوں کو جو اس کے سامنے جھکتے ہیں ضائع نہیں کرتا اور اس سے تعلق کو وہ قائم کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے اور دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ یہ میرا محبوب بندہ ہے وہ اس پر وحی کرتا ہے کشوف ورڈ یا اسے دکھاتا ہے وہ اس کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ایسے بندے اس اُمت میں پیدا ہوتے رہیں گے جو قیامت تک یہ ثابت کرتے رہیں گے کہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے اور اس سے تعلق رکھنے والے آیات بینات کو حاصل کرتے ہیں۔پانچویں غرض اس کا تعلق بیت اللہ سے ہے اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کی ہے کہ یہ مقامِ ابراہیم ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ دیکھو ہمارے بندے ابراہیم (علیہ السلام ) نے اور بہتوں نے اس کی نسل میں سے انقطاع نفس کر کے اور تعشق باللہ اور محبت الہی میں غرق ہو کر بچے عاشق اور محب کی طرح اسلمت لرب العلمین کا نعرہ لگایا اور دنیا کے لئے ایک نمونہ بنایا۔ہم نے اس بیت اللہ کی آبادی کا اس لئے انتظام کیا ہے کہ اس کے ذریعہ عشاق الہی کی ایک ایسی جماعت پیدا کی جاتی رہے جو تمام حجابوں کو دور کر کے اور دنیا کے تمام علائق سے منہ موڑ کر خدا تعالیٰ کے لئے اپنی مرضات سے ننگے ہو کر اور تمام خواہشات کو قربان کر کے فنا فی اللہ کے مقام کو حاصل کرنے والے ہوں اور اس عبادت کو احسن طریق پر اور کامل طور پر ادا کرنے والے ہوں جس کا تعلق محبت اور ایثار سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ عبادت دو قسم کی ہوتی ہے