خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 632
خطبات ناصر جلد اول ۶۳۲ خطبہ جمعہ ۳۱ / مارچ ۱۹۶۷ء تمام زبانوں کے لئے ہم اس گھر کو بنارہے ہیں تمام اقوام کے ساتھ اس کا جو تعلق ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بار بار دہرایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیسری غرض اس گھر کی تعمیر سے یہ ہے کہ هُدًى لِلعلمين تمام جہانوں کے لئے ہدایت کا موجب یہ بنے۔لفظ ھڈی کے معنوں میں بھی عالمین کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کیونکہ عقل اور فراست اور علم اور معارف جو مشترک طور پر سارے انسانوں کا حصہ ہیں ان کو ہدایت کہتے ہیں۔اس کے بغیر آگے روحانی علوم چل ہی نہیں سکتے کیونکہ جس میں مثلاً عقل نہ ہو وہ پاگل ہو جائے اس کو مرفوع القلم کہتے ہیں یعنی اب اس کے او پر شریعت کا حکم نہیں رہا غرض عقل بنیاد ہے شریعت کی اور ان معانی کی جو اس لفظ ہدایت کے اندر پائے جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ ہم اس گھر کے ذریعہ سے ثابت کریں گے که تمام اقوامِ عالم عقل کے لحاظ سے اور فراست کے لحاظ سے اور معارف کے لحاظ سے اور علوم کے لحاظ سے ایک جیسی قابلیت رکھتے ہیں۔کسی قوم کو اس لحاظ سے کسی دوسری قوم پر برتری نہیں ہے۔اس میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ جس زمانہ میں حقیقتا هُدًى لِلْعَلَمِینَ کا جلوہ دنیا پر ظاہر ہوگا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اس وقت بعض قو میں دنیا میں ایسی بھی پیدا ہو جائیں گی جو یہ کہنے لگیں گی کہ ہم زیادہ عقل مند ہیں۔ہمارے اندر زیادہ فراست اور علوم حاصل کرنے کی زیادہ قابلیت ہے اور بعض قو میں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہی اس غرض سے ہے کہ وہ ہماری محکوم رہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس گھر کے ذریعہ سے ہم ثابت کریں گے کہ اپنی عقل اور فراست اور بنیادی علوم کے لحاظ سے قوم قوم میں تمیز نہیں کی جاسکتی۔اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور اس غرض کو حاصل کرنے کے لئے جس عقل کی ، جس فراست کی، جن معارف کی اور جن علوم کی ضرورت تھی وہ سب اقوام کو برابر دئے ہیں یعنی ان کے اندر برابر کی استعدادیں ہیں۔فرد فرد کی استعداد میں تو فرق ہوسکتا ہے لیکن کسی ایک قوم کو دوسری قوم پر برتری حاصل نہیں۔دوسرے معنی هدی للعلمین کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بیت اللہ کے مقام سے قرآن کریم کا نزول شروع کرے گا کیونکہ مفردات راغب میں ہے کہ ھدایة کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ