خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 628 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 628

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۲۸ خطبہ جمعہ ۳۱ / مارچ ۱۹۶۷ء وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - (البقرة : ۱۲۶ تا ۱۳۰ ) اس کے بعد فرمایا:۔میں نے اپنے اس مضمون کو عید الاضحیہ کے روز شروع کیا تھا اور بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ بیت اللہ کی از سر نو تعمیر کی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ عہد لیا کہ وہ اور ان کی نسل ایک لمبے عرصہ تک خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگیوں کو وقف کر کے ان ذمہ داریوں کو نباہیں گے جو بیت اللہ کی تعمیر سے تعلق رکھتی ہیں اور تد بیر اور دعا سے یہ کوشش کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل کو تو فیق عطا کرے کہ جب خدا تعالیٰ کا آخری شارع نبی دنیا کی طرف مبعوث ہو تو وہ اسے قبول کریں اور اسلام کے قبول کرنے کے بعد جو انتہائی قربانی اس قوم کو خدا تعالیٰ کے نام کے بلند کرنے کے لئے دینی پڑے وہ قربانی خدا تعالیٰ کی راہ میں دیں۔میں نے بتایا تھا کہ بیت اللہ کے ساتھ بہت سی اغراض اور بہت سے مقاصد وابستہ ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں ہمیں نظر آتا ہے۔اور جن کا تعلق حقیقتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ہے۔یہ آیات جو میں نے ابھی تلاوت کی ہیں جب ان کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو ہمیں مندرجہ ذیل مقاصد نظر آتے ہیں جن مقاصد کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی از سر نو تعمیر کروائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل سے قریباً اڑھائی ہزار سال تک وہ قربانیاں لیتا چلا گیا۔پہلی غرض وضع للناس بیان ہوئی ہے۔دوسری مبر کا تیسرے هُدًى لِلْعَلَمین میں ایک مقصد بیان ہوا ہے۔چوتھے ایت بيّنت پانچویں مَقَامِ ابراهم چھٹے مَنْ دَخَلَهُ كَانَ أَمِنَّا ساتویں وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ۔آٹھویں جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ نویں وَ آمَنَّا دسویں وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْراهِمَ مُصَلَّى گیارہواں مقصد طهرا بَيْتِی میں بیان کیا گیا ہے۔بارہواں مقصد للطايفين تیر ہواں عکفین کے لفظ میں بیان ہوا ہے۔چودہواں مقصد والركع السُّجُودِ کے اندر بیان کیا گیا ہے۔پندرہواں مقصد رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا میں بیان کیا گیا ہے۔سولہواں مقصد وَارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ میں بیان کیا گیا ہے۔سترھواں مقصد رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا میں بیان کیا گیا ہے۔اٹھارواں مقصد السمیع کے اندر بیان ہوا ہے۔انیسواں مقصد العلیم کے اندر بیان ہوا