خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 621 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 621

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۲۱ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۶۷ء وہ مجھے اس یاد دہانی کا ثواب عطا کرے گا۔جو گوشوارہ میرے سامنے پیش کیا گیا ہے اس کی رو سے جو تدریجی بجٹ اور جو تدریجی آمد ہے اس میں دولاکھ اسی ہزار روپیہ کا فرق ہے اور جو گل بجٹ ہے اس میں غالباً پانچ چھ لاکھ کی کمی ہے لیکن اگلے دو مہینہ میں معمول کے مطابق آمد آنی ہے لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ مثلاً دوسرے تیسرے مہینہ میں انہیں کوئی ضرورت پیش آئی تو وہ کہتے ہیں اب ہم اپنی ضرورت پوری کر لیتے ہیں اور سال کے اندر اندر ہم بہر حال خدا کی ضرورت کے پورا کرنے کے لئے جو وعدے ہم نے دیئے ہیں وہ پورا کر دیں گے تو آخری مہینہ میں آمد جو ہے وہ ہر مہینہ کی نسبت سے کہیں بڑھ جاتی ہے اول تو میری طبیعت پر یہ چیز بھی گراں گذرتی ہے کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شروع سال میں ہمیں خواہ وہ اپنی ہی بعض دوسری ریز رو مدوں میں سے رقم لینا پڑے مانگ کر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ہمارے لئے تو کوئی تکلیف نہیں لیکن غیرت مجھے ضرور آتی ہے کہ وہ قوم جن کا اللہ تعالیٰ نے اس شان کے ساتھ اپنے کلام مجید میں ذکر کیا ہے وہ اگر اپنے چندے شرح کے ساتھ ماہ بماہ دینا شروع کر دیں تو کسی ماہ بھی کسی مد سے ہمیں مانگنا نہ پڑے إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ بہر حال اب تھوڑا وقت رہ گیا ہے اور ذمہ داری بڑی ہے خصوصاً اس قوم کے لئے کہ جو یہ دیکھ رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری حقیر کوششوں میں کس قدر برکت ڈالتا ہے اور کیسے اعلیٰ اور شاندار اور نتائج اس کے نکالتا ہے اور جہاں تک ذاتی طور پر ہمارا تعلق ہے اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کسی کا قرض اپنے سر پر نہیں رکھتا۔بہت سے خاندانوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اٹھنی یا بارہ آنے یا روپیہ ماہوار چندہ دیا اللہ تعالیٰ نے اس خاندان کو اس دنیا میں بھی اس سے کہیں بڑھ کر واپس کیا ان میں سے ایسے خاندان بھی ہیں جن کی ماہوار آمد بیس پچیس یا تیس ہزار روپیہ ماہوار ہے۔پس اللہ تعالیٰ کسی کا قرض اپنے ذمہ نہیں رکھتا اصل نعمت تو وہ ہے جو مرنے کے بعد ہمیں ملنی ہے لیکن اس دنیا میں بھی وہ اپنے فدائی اپنے جاں نثار اپنی راہ میں خرچ کرنے والے جو اُسے غنی اور خود کو فقیر سمجھتے ہیں اور ہر دم اپنے دل میں اس کی احتیاج پاتے ہیں ان کو مایوس نہیں کرتا بلکہ اتنادیتا ہے کہ لینے والا حیران ہو جاتا ہے۔