خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 620
خطبات ناصر جلد اول ۶۲۰ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۶۷ء کا مطالبہ کیا تھا اور دس سال کے بعد جو اثر اور نتیجہ پیدا ہوا اس کا دنیا میں وہ یہ تھا کہ دس سالہ اس حقیر کوشش کے نتیجہ میں وہ زمانہ آیا کہ ۴۵ ء سے ۶۶ ء تک قریباً ۲۱ سال میں قریباً تین کروڑ روپیہ غیر ملکوں کی آمد تحریک جدید کو ہوئی یعنی یہ ” قوم" غیر ملکوں میں بھی پیدا ہونی شروع ہوگئی ( يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَير كُم ) تو صرف مرکز میں ہی ایسی قوم پیدا نہیں ہوئی بلکہ ساری دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا ایک نمونہ بنی نوع انسان کو دکھایا کہ دیکھو تم نے بخل سے کام لیا تمہیں کیا ملا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال کو قربان کیا دیکھو یہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے کیا وہ ایک بدلی ہوئی قوم نہیں ہے کیا یہ وہ قوم نہیں ہے جن کے اعمال کو دیکھ کر ، جن کے اعمال کے نتائج کو دیکھ کر انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ قوم ہے اس کی پیدا کردہ جماعت ہے یہ وہ جماعت ہے جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا يَسْتَبْدِلُ قَوْمًا غَيْرَكُمْ کہ وہ تم میں سے ہوں گے وہ تم میں ہوں گے لیکن وہ اپنے ایثار میں تم سے علیحدہ ہوں گے وہ اسلام کی ہی ایک جماعت ہوگی لیکن جہاں تک ان کی قربانیوں کا تعلق ہو گا جہاں تک ان قربانیوں کے پھل اور ثمرہ کا تعلق ہو گا جو آسمانی حکم کے نتیجہ میں پیدا ہو گا تم میں اور ان میں کوئی مماثلت نہیں ہوگی تو اس قوم کو جس نے اپنے لئے یہ روایت قائم کر لی ہے کہ ان کا قدم ہر میدانِ قربانی میں (انفاق فی سبیل اللہ کے میدان میں بھی ) آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اس قوم کے عزیزوں اور بھائیوں کو میں بطور یاد دہانی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سال رواں صدر انجمن احمدیہ کے چندوں کا قریباً ختم ہو رہا ہے اور اس سال میں سے ویسے تو ایک مہینہ اور تیرہ یا چودہ دن باقی رہ گئے ہیں لیکن چونکہ چندے لوگ ماہ بماہ دیتے ہیں ہر ماہ کی آمد وصول ہونے پر انفاق فی سبیل اللہ کرتے ہیں اس لئے سال گذرنے میں دو ماہ باقی رہ گئے ہیں لیکن جہاں تک وصولی کا سوال ہے وہ اس نسبت سے کم ہے یعنی سارے سال کا بجٹ اگر بارہ مہینوں پر پھیلایا جائے تو دو مہینہ کی جو رقم باقی رہ جانی چاہیے تھی اس سے زیادہ رقم باقی رہ گئی ہے یہ تو مجھے پتہ ہے کہ خدا کے فضل سے محض خدا کے فضل سے ( اپنی کسی خوبی کے نتیجہ میں نہیں ) آپ اپنی ذمہ داریوں کو ضرور نبھائیں گے اور آپ کا قدم سال گذشتہ سے پیچھے نہیں رہے گا لیکن میں نے یہ سوچا کہ میں اپنے بھائیوں کو اس طرف متوجہ کر کے اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھوں کہ