خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 613
خطبات ناصر جلد اول ۶۱۳ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۶۷ء ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں نے ان بندوں کو اپنے قرب اور اپنی رضا کے لئے پیدا کیا تھا اس لئے اب میں ان کو وہ رستے بھی دکھاؤں گا کہ جن پر چل کر وہ میری رضا کو حاصل کر سکیں اور میرے قرب کو پاسکیں اس غرض سے وہ تمہارا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے شیطان کہتا ہے کہ خدا فقیر ہے وہ تمہارے اموال مانگنے آیا ہے لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے میں سخی ہوں، میں فنی ہوں ، میں دیا لوہوں، میں اس لئے آیا ہوں کہ میں تمہیں کچھ دوں میں اس لئے نہیں آیا کہ تم سے تمہارے اموال جس طرح ایک فقیر لیتا ہے اس طرح لے لوں۔تو اللہ تعالیٰ جب ہمارا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنے مالوں کی قربانیاں میری راہ میں دو تو ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اس سے کہیں زیادہ میں تمہیں واپس لوٹاؤں گا۔میں تمہیں اَضْعَافًا مُضْعَفَةً دوں گا۔تم دنیا کی فانی چیزیں جو میری ہی عطا ہیں میرے قدموں میں لا رکھو ابدی نعمتیں ان کے بدلہ میں تمہیں دی جائیں گی ، میری رضا تمہیں ملے گی اور میری جنت میں تم داخل ہو گے ، تمہارا ثواب اور تمہارا اجر اپنی کمیت اور کیفیت میں اس سے کہیں بڑھ کر ہے جو وہ تم سے اموال کی شکل میں لیتا ہے۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے جو کچھ وہ ہم سے لیتا ہے وہ ہم اپنے گھر سے تو نہیں لاتے بلکہ وہ بھی تو اسی کی عطا ہے۔اس نے ہی وہ اپنے فضل سے ہمیں دیا ہوتا ہے اور وہی اپنے فضل سے ہمیں دنیا کے اموال کا مالک اور وارث بناتا ہے اور پھر ہمیں کہتا ہے کہ جو میں نے تمہیں دیا ہے اس میں سے تھوڑا سا مجھے واپس دے دو کیونکہ جو میں نے اس دنیا میں تمہیں دیا تھا وہ فانی ہے اور ضائع ہونے والا ہے اس کے ایک حصہ کا میں مطالبہ کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ مجھے لوٹا دوتا وہ ذریعہ بن جائے ان ابدی اور غیر فانی نعمتوں کا جو تمہیں اُخروی زندگی میں ملنے والی ہیں۔إن يَسْتَلْكُمُوهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوا اوہ ایک گدا گر اور بھیک منگے کی حیثیت سے تمہارا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا، وہ اس فقیر کی طرح مانگنے والا نہیں جس کے متعلق تم حق رکھتے ہو کہ اسے کہو بابا جاؤ ہم تمہارے کشکول میں بھیک نہیں ڈالتے بلکہ وہ تو آقا ہوتے ہوئے بھی ، وہ تو غنی ہوتے ہوئے بھی اپنی رحمت کے جوش میں تمہارے ہی فائدہ کے لئے تمہارے دروازہ پر آتا ہے اور ایک سچا اور سستا سودا تم سے کرنا چاہتا ہے۔وہ تو یہ کہ رہا ہے کہ فانی دو اور باقی پاؤ۔ورلی زندگی