خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 597
خطبات ناصر جلد اول ۵۹۷ خطبہ جمعہ ۳/ مارچ ۱۹۶۷ء ہو جاتی ہیں اس لئے اس جنت کو دوام مل جاتا ہے اس لئے یہ جنت ایک نسل کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اگلی نسل کے لئے اور پھر اس سے اگلی نسل کے لئے بھی یہ دنیا کی جنت قائم رہتی ہے اور جو بشارتیں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان بشارتوں کی روشنی میں یہ جنت ہمارے لئے صدیوں تک قائم رہنی چاہیے۔اگر ہم اپنی ذمہ داری کو نباہنے والے ہوں ہم مرد بھی اور ہماری مائیں اور ہماری بیویاں اور ہماری بہنیں اور ہماری دوسری رشتہ دار عورتیں بھی تو اللہ تعالیٰ کا ہم سے یہ وعدہ ہے کہ وہ اس جنت کو اس دنیوی جنت کو بھی ہمارے لئے ایک قسم کی ابدی جنت بنادے گا لیکن اس کے لئے شرط یہی ہے کہ عورت اپنے بچوں کی صحیح تربیت کی طرف پوری طرح متوجہ رہے۔اس کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ اس معنی میں مطہرہ ہوں کہ کوئی بدرسم ان کے گھروں میں نہ ہو اور کسی مشرکانہ بدعت کے ساتھ ان کو کوئی تعلق باقی نہ رہے خالص توحید کا ماحول پیدا کرنے والی ہوں اور اس خالص توحید کے ماحول میں اپنے بچوں اور بچیوں کی تربیت کرنے والی ہوں۔اگر ہماری مستورات اپنی اس ذمہ داری کو نباہ لیں تو ہمارے لئے وہ بشارت جو ہے وہ قائم رہے گی اور ہماری نسلیں صدیوں تک اس دنیوی جنت میں آسائش اور آرام کی زندگی بسر کرنے والی ہوں گی کسی قسم کا دکھ انہیں نہیں پہنچے گا کوئی تکلیف ان کو نہیں ڈرائے گی تو جس امر کی طرف میرے خدا نے میری توجہ کو پھیرا ہے اس سے پہلے بطور تمہید کے آج میں اپنی بہنوں سے یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت سے اس لمحہ سے یہ عزم اپنے دلوں میں وہ پیدا کریں کہ ہم نے ہر قسم کی رسوم کو ترک کر دینا ہے اور مشر کا نہ بدعتوں کا قاتل بن جانا ہے اُن سے اثر قبول نہیں کرنا بلکہ انہیں اپنی روحانیت کے اثر کے نتیجہ میں ہلاک کر دینا ہے اور اپنے بچوں کو شیطان کے ہر قسم کے اثر سے محفوظ رکھنا ہے اور انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی اس قائم کردہ، خدا تعالیٰ کی اس پیدا کردہ جنت کے ایسے درخت بنہیں کہ جن سے دنیا شیر یں پھل حاصل کرے۔وہ جھاڑیاں نہ بنیں جن کے کانٹوں میں دنیا الجھے اور شیطان کی طرف پھر متوجہ ہو جائے اور ہم میں سے ہر مرد کو اسی لمحہ یہ عزم کر کے یہاں سے اٹھنا چاہیے کہ ہمارے گھر میں وہی بیوی رہ سکے گی