خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 595 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 595

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۹۵ خطبہ جمعہ ۳/ مارچ ۱۹۶۷ء دوام حاصل کرنا ہے اور ابدیت کا مقام حاصل کرنا ہے تو ضروری ہے کہ دو چشمے اس کے باغ کو سیراب کر رہے ہوں ایک تو وہ چشمہ محبت الہی کا ، ایک تو وہ چشمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا ، ایک تو وہ چشمہ اسلام کے لئے ہر قسم کی قربانی اور ایثار کے نمونے ظاہر کرنے کا جو مرد کے دل سے پھوٹتا ہے اس کی ضرورت ہے اور دوسرے اس چشمہ کی ضرورت ہے جو ایک عورت کے دل سے پھوٹے اور اس چشمہ کے پانی سے باغ (اس جنت ) کی نرسری کو سیراب کیا جائے اس لئے مِن دُونِهِمَا جَنَّتن کے آگے دوچشموں کا بھی اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اے مردو! اگر خدا کی رضا کو حاصل کر بھی لو اور اگر تمہاری نیکی اور تقویٰ کے نتیجہ میں اور ان قربانیوں کی وجہ سے جو تم اس کی راہ میں دے رہے ہو اور اس موت کی وجہ سے جو تم نے اپنے خدا کی رضا کے حصول کے لئے اپنے پر وارد کی ہو اور اس اثر کے نتیجہ میں جس سے تمہاری بیویاں ایک حد تک متاثر ہوتی ہیں اس دنیا میں خدا کی رضا کی جنت کو حاصل بھی کر لو تو کون کہہ سکتا ہے کہ یہ جنت ہمیشہ رہنے والی ہے جب تک کہ مستقل طور پر اُمت مسلمہ کی ہر عورت ان قربانیوں کو بجانہ لائے جن قربانیوں کی توقع مردوں اور عورتوں ہر دو سے کی جاتی ہے اور جب تک عورت اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے والی نہ ہو جیسا کہ اس کے خاوند اور اس کے باپ اور اس کے بھائی اور اس کے دوسرے رشتہ دار اور تعلق رکھنے والے مردا اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے والے ہیں اس وقت تک اس جنت کو دوام حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ عورت کی ایک بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ آئندہ نسل کی صحیح تربیت کرے اور آئندہ نسل میں ان نقوش کو اُبھارے جو نقوش اسلامی انوار سے بنے ہوئے ہوں جو نقوش قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں اُبھرتے ہیں تو جب تک عورت اپنی اس ذمہ داری کو نہیں بنا ہے گی وہ عورت جو ایثار پیشہ مرد کی بیوی اور اس اسلامی جنت کی نرسری کی ماں ہے اس وقت تک اس جنت کو دوام حاصل نہیں ہوسکتا۔ایک نسل خدا کی رحمتوں کے سایہ کے نیچے اپنی زندگی کے دن گزار کے اس دنیا سے رخصت ہو جائے گی اور اگر اگلی نسلی کی تربیت صحیح نہ ہوئی تو پہلی نسل کے اس دنیا سے گزر جانے کے ساتھ ہی خدا کی رحمت کا سایہ بھی اس قوم سے اٹھ جائے گا اور خدا کی رحمت کے سایہ کی بجائے شیطانی تمازت کے اندر