خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 594
خطبات ناصر جلد اول ۵۹۴ خطبہ جمعہ ۳/ مارچ ۱۹۶۷ء کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے دو پیشگوئیاں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ کیں ایک تو یہ کہ غلبہ اسلام فوری طور پر یا چند سالوں میں نہیں ہو گا بلکہ ایک وقت لگے گا دنیا میں اسلام کو غالب کرنے پر اور دوسرے یہ بشارت دی کہ اسلام کا یہ غلبہ بڑے لمبے عرصہ تک دنیا میں قائم رہے گا اور بنی نوع انسان نسلاً بعد نسل اسلام کی برکات اور اس کے فیوض سے حصہ لیتے رہیں گے۔اس کے نتیجہ میں ایک طرف غلبہ اسلام کے لئے ہماری قربانیوں میں دوام پایا جانا چاہیے اور دوسری طرف دعاؤں اور جدو جہد کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کچھ اس طرح جذب کرنے کی ضرورت ہے کہ جو جنت اس دنیا میں ہمیں اس کی طرف سے عطا ہو وہ بھی قائم رہنے والی ہو جلدی خزاں نہ آجائے۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں بڑے زور سے ایک تحریک پیدا کی ہے اس کے متعلق میں ابھی غور کر رہا ہوں۔آج اصل مضمون کے متعلق تو میں کچھ کہنا نہیں چاہتا لیکن تمہید کے طور پر میں آج اپنی بہنوں کو مخاطب کرنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ رحمن میں چار جنتوں کے وعدے ایک مسلمان کو دیئے ہیں دو کا تعلق اُخروی زندگی کے ساتھ ہے اور دو جنتوں کا تعلق اس دنیا کے ساتھ ہے۔دراصل تو اُخروی زندگی کی جنت یا اس دنیا کی جنت ایک ہی جنت ہیں لیکن چونکہ ہم دو نقطہ ہائے نگاہ سے، دو زاویوں سے اس کو دیکھ سکتے ہیں اور ان دو نقطہ ہائے نگاہ کو ہی اللہ تعالی نمایاں کرنا چاہتا تھا اس لئے ایک کی بجائے دو جنتوں کا ذکر سورۃ رحمن میں کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ رحمن میں ہماری توجہ اس طرف پھیرتا ہے کہ اگر اس جنت کو تم حاصل کرنا چاہتے ہو جس کو دوام حاصل ہو اور جو ابدی جنت کے نام سے پکاری جا سکے، جس کے متعلق یہ فقرہ صحیح ثابت ہو کہ خُلِدِينَ فِيهَا ایک لمبا عرصہ یہ قوم دنیا کی اس جنت کے اندر رہے گی تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ دوزاویوں سے تم اس جنت پر نگاہ ڈالو اور دوطرفہ کوشش کے ذریعہ اسے حاصل کرو اور یہ کوشش کرو کہ دو چشمے تمہاری قوم اور اُمت میں پھوٹیں کیونکہ صرف ایک چشمہ اسے سیراب کر کے اُسے ابدیت عطا نہیں کر سکتا۔اگر اس دنیوی جنت نے کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے