خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 572
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۷۲ خطبہ جمعہ ۲۰ جنوری ۱۹۶۷ء تمہیں اللہ تعالیٰ تو فیق عطا نہ کرے تم اس وقت تک شریعت کو قائم نہیں کر سکتے تم اس وقت تک نماز کو اس کی پوری شرائط کے ساتھ ادا نہیں کر سکتے۔اس لئے تم اپنے خدا سے اس کی تو فیق چاہو تم اس سے مدداور نصرت مانگو۔’صلوۃ کے چوتھے معنی مغفرت چاہنے کے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے تم مجھ سے دعا کرو کہ اے ہمارے رب! ہم اپنی بساط کے مطابق تیرے احکام کی پیروی کی کوشش کرتے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے لیکن تو نے شیطان کو کھلا چھوڑ رکھا ہے وہ بعض دفعہ ہمارے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے اور بعض دفعہ وہ ہمارے غیر کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور اس طرح ہمیں صراط مستقیم سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے وہ ہمارے اعمال میں رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہم اپنے زور سے تو اس سے بچ نہیں سکتے اس لئے تو ہماری مددفرما اور ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم خلوص نیت کے ساتھ محض تیری خاطر تیرے احکام کو بجا لانے والے ہوں اور اس بجا آوری میں ہمیں دنیا، دنیا کی عزت یا دنیا کی کوئی وجاہت مطلوب نہ ہو پھر اے ہمارے خدا اگر ہم تیری توفیق پا کر اعمال صالحہ بجالائیں گے تو بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اندر کوئی رخنہ رہ جائے اور ایسا رخنہ رہ جائے۔جس کا ہمیں بھی علم نہ ہو۔اس لئے ہماری تجھ سے آخری استدعا یہ ہے کہ تو ہمیں اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے تو ہماری کمزوری کو ننگا نہ کر تو ہمارے ننگ کو ظاہر نہ کر۔غرض اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ اے میرے رسول ! توان لوگوں پر جو میری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور تیرے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور شریعت قرآنیہ پر ایمان لاتے ہیں۔یہ کھول کر بیان کر دے کہ وہ صلوۃ“ کو قائم کریں اور صلوۃ کے جو معنی ہیں وہ میں نے اس وقت آپ کے سامنے بیان کر دیئے ہیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ يُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ یعنی وہ عطاء الہی کو رضاء الہی کی راہ میں خرچ کریں۔اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انہیں دیا ہے اس کو اس طرح خرچ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا انہیں حاصل ہو۔رزق کے معنی میں ایک تصور یہ بھی پایا جاتا ہے کہ جو لینے والا ہے اس کی ضرورت کو پورا کیا گیا ہے اس طرح