خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 571 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 571

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۷۱ خطبہ جمعہ ۲۰ جنوری ۱۹۶۷ء کی چادر میں لپیٹ لے وہ ہم سے محاسبہ نہ کرے۔کیونکہ اگر اس نے ہم سے محاسبہ کیا تو ہم یقیناً ہلاک ہونے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے محبوب رسول ! تو ان لوگوں پر جو تجھ پر ایمان لائے ہیں یہ بات کھول کر بیان کر دے کہ ایک دن ایسا بھی تمہیں دیکھنا نصیب ہے تم اس کے لئے تیاری کرو اور چونکہ خدا تعالیٰ رحیم ہے۔اس لئے ہم اس دنیا میں انہیں وہ راہ بتاتے ہیں کہ جس راہ پر چل کر (اگر وہ خلوص نیت سے چلیں ) وہ حشر کے دن اس قسم کے عذاب سے بچ سکتے ہیں اور وہ راہ اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ اے میرے رسول تو میرے ان بندوں پر جو تجھ پر ایمان لا کر میرے حقیقی بندے بنے کی خواہش رکھتے ہیں یہ کھول کر بیان کر دو کہ وہ صلوۃ “ کو اپنی پوری شرائط کے ساتھ قائم کریں۔عربی زبان میں صلوۃ کے وہ معنی جو ہم سب سے پہلے اس قسم کی آیات میں کرتے ہیں۔شریعت کے ہیں اس کے معنی اس نماز کے بھی ہیں کہ جو ہم ہر روز پانچ وقت ادا کرتے ہیں لیکن جہاں اس لفظ کے یہ معنی ہوں۔وہاں سیاق و سباق سے اس کا پتہ لگ جاتا ہے لیکن جہاں سیاق و سباق سے اس بات کا پتہ نہ لگے کہ اس لفظ کے معنی اس نماز کے ہیں۔جو ہم ہر روز پانچ وقت ادا کرتے ہیں وہاں اس کے پہلے معنی شریعت کے ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ وہ اس شریعت کے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کی شکل میں نازل ہوئی ہے تمام احکام کو پوری شرائط کے ساتھ قائم کریں اور پوری شرائط کے ساتھ انہیں ادا کریں۔پھر صلوۃ کے ایک معنی (جیسا کہ میں نے بتایا ہے ) اس نماز کے بھی ہیں جو ہم پانچ وقت ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے يُقِيمُوا الصلوۃ وہ اس نماز کو بھی اس کی پوری شرائط کے ساتھ ادا کریں۔پھر صلوۃ کے تیسرے معنی دعا کے ہیں اور اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ اگر تم شریعت کے قیام اور نماز کو اس کی پوری شرائط کے ساتھ ادا کرنے میں محض اپنی طاقت پر توکل رکھتے ہو۔تو یہ تمہارے لئے ممکن نہیں اگر تم شریعت کا قیام چاہتے ہو، اگر تم نماز کو اس کی پوری شرائط کے ساتھ ادا کرنا چاہتے ہو، تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم دعاؤں کے ذریعہ میری مدد کو حاصل کرو۔جب تک