خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 554
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۶ / جنوری ۱۹۶۷ء ہوئے وہ آسمان کی طرف رجوع کرے گا اور زمین کے ان ٹکڑوں تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔جو کسی وقت اللہ تعالیٰ کے قانون کے ماتحت زمین سے علیحدہ ہوئے اور علیحدہ گرے انہوں نے بنائے۔جن کا تعلق نظام شمسی سے ہے اور جس طرح زمین کی مختلف اشیاء سے وہ فائدہ اُٹھا رہا ہے۔اسی طرح اس کی یہ کوشش ہو گی کہ وہ آسمان کے ان ستاروں سے بھی فائدہ اٹھائے اور اس طرح اپنی زمین میں ایک وسعت پیدا کرے اور اس کو پھیلا دے۔پس انسان کا دماغ اس وقت اس کام میں لگا ہوا ہوگا کہ وہ زمین کے راز بھی زیادہ سے زیادہ حاصل کرے اور زیادہ سے زیادہ ان رازوں سے فائدہ اُٹھائے اور آسمان کے ستاروں پر بھی وہ کمند ڈالے گا اور ان تک پہنچنے کی کوشش کرے گا اور ان سے اسی طرح فائدہ اٹھانے میں مشغول ہو گا جس طرح کہ زمین کی مختلف چیزوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔پھر یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرزند جلیل مامور اور مبعوث کئے جائیں گے۔اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے اور توحید خالص کے قیام کے لئے آسمان سے بڑی کثرت کے ساتھ نشان ظاہر ہوں گے۔اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ایک دنیا خدا کو بھول چکی ہوگی۔خدا کی منکر ہوگئی ہوگی۔دہریت کو انہوں نے اختیار کر لیا ہو گا۔چونکہ دلائل کے مقابلہ میں آسمانی نشان دہر یہ قسم کے لوگوں پر زیادہ اثر کرتے ہیں اور جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ وہی آسمان سے نازل کرتا ہے۔تو جہاں یہ فرمایا کہ کثرت کے ساتھ آسمان سے نشان ظاہر ہوں گے وہاں اس طرف بھی متوجہ کیا کہ انسان کثرت سے مذہب کو چھوڑ کے دہریت کی طرف مائل ہو جائے گا اور خدا کا منکر ہو جائے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مادی ترقیات کے لئے تو اتنی جستجو ، اتنی قربانیاں مالی بھی اور جانی بھی ، کہ کسی چیز کے خرچ کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔لاکھوں آدمیوں کی جان بھی قربان کرنی پڑے تو کسی نہ کسی بہانے وہ قربان کر دی جائیں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ آسمانی اور زمینی رازوں کو اس زمانہ کے سائنسدان حاصل کر سکیں اور اس زمانہ کی قومیں ان رازوں سے فائدہ اُٹھا