خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 41
خطبات ناصر جلد اول ۴۱ خطبہ جمعہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۶۵ء خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیں تاکیدی حکم ہے کہ مسکینوں ، یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلایا جائے خطبہ جمعہ فرموده ۷ اردسمبر ۱۹۶۵ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ الدھر کی مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں۔وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمَا وَ أَسِيرًا - إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُم جَزَاءً وَلَا شُكُورًا - إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَبْطَرِيرًا - فَوَقَهُمُ اللَّهُ شَرِّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَهُمْ نَضْرَةٌ وَسُرُورًا - (الدهر : ۹ (۱۲) پھر فرمایا :۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے اس حکم کوسن کر ہمارے نیک بندے ہماری رضا کے متلاشی بندے، ہمارے قرب کے خواہاں بندے، اس طرح عمل کرتے ہیں۔وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّہ کہ وہ ہماری محبت کی خاطر اور ہماری خوشنودی کے حصول کے لئے کھانا کھلاتے ہیں کس کو؟ مسکین کو یتیم کو اسیر کو۔عربی زبان میں مسکین کے معنی ہیں ایسا شخص جس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ بخوبی گزارہ کر سکے اور اس کا گھرانہ اس روپے سے پرورش پاسکے۔اور یتیم کے معنی ہیں ایسا شخص جس کا والد یا مر بی نہ ہو اور ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔