خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 548 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 548

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۴۸ خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۶۶ء ان کاموں سے ہمیں بچا جن کاموں کے نتیجہ میں تو ہم سے ناراض ہوتا ہے۔شیطان تیرے در کا کتا ہے۔تو خود اس کو زنجیر ڈال کہ وہ ہم پر حملہ آور نہ ہو اور ہمیں نقصان نہ پہنچائے کہ اپنی طاقت اور اپنے زور کے ساتھ ہم اس کے حملوں سے اپنے کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔خدا تعالیٰ کی رحمت کے بہت سے دروازوں میں سے رحمت کا ایک دروازہ جو ہم پر کھولا گیا ہے۔وہ وقف جدید کا دروازہ ہے۔اس نظام کے ذریعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ہمارے لئے نیکیاں کرنے اور رحمتیں کمانے کا سامان پیدا کر دیا۔وقف جدید کا سال یکم جنوری سے شروع ہوتا ہے۔آج ۳۰ دسمبر ہے کل کا ایک دن بیچ میں رہ گیا ہے اس طرح نیا سال پرسوں شروع ہوگا۔ہر نیا سال جو چڑھتا ہے وہ کچھ نئی ذمہ داریاں لے کر آتا ہے اور کچھ نئی قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے، یا قربانیوں میں کچھ زیادتی کا مطالبہ کرتا ہے اور اس کے مقابلہ میں خدا کی نئی رحمتوں کے دروازے بھی وہ کھولتا ہے۔ہر تحریک جو اعلائے کلمتہ اللہ اور غلبہ اسلام کے لئے جماعت احمدیہ میں جاری کی گئی ہے وہ اس آیت کے ماتحت جاری کی گئی ہے۔نبی عِبَادِی آئی اَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ کہ کسی طرح افراد جماعت اور ہماری آئندہ نسلیں بھی اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحمت کو حاصل کرنے والی بنیں۔پس ہمیں چاہیے کہ اپنی طرف سے زیادہ سے زیادہ جد و جہد یا اجتہا دیا مجاہدہ ہم کریں تا کہ خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکیں اور پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک مومن بندہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی اپنے آپ کو تہی دست پا تا اور تہی دست سمجھتا اور یقین رکھتا ہے۔وقف جدید کی تنظیم جماعت کی تربیت کے لئے بڑی اہم تنظیم ہے۔اس کی اہمیت کو پوری طرح ابھی تک جماعت نے نہیں سمجھا کیونکہ اگر وہ سمجھتے تو اس سے وہ بے اعتنائی نہ برتتے جو آج برت رہے ہیں۔وقف جدید کو جاری ہوئے ۹۸ سال گذر چکے ہیں اور ابھی تک اس کا چندہ ڈیڑھ لاکھ تک بھی نہیں پہنچا۔حالانکہ تربیت کے جو کام اس تنظیم کے سپرد کئے گئے ہیں۔وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کاموں کے کرنے کے لئے ڈیڑھ لاکھ تو کوئی چیز ہی نہیں ہے۔پھر اس کے لئے جس تعداد میں واقفین آئے ہیں وہ تعداد بھی (جیسا کہ میں نے پہلے بھی اپنے ایک خطبہ میں بتایا تھا ) نا کافی ہے۔میں نے کہا