خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 539
خطبات ناصر جلد اول ۵۳۹ خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۶۶ء زیادہ سے زیادہ مکانیت سلسلہ کو پیش کریں۔اللہ تعالیٰ اس کے نتیجہ میں آپ کے مکانوں میں بڑی برکت ڈالے گا۔اگر آپ سوچیں اور دعائیں کریں اور اپنی نیتوں کو خالص رکھیں تو آپ خود اپنی زندگیوں میں ہی دیکھ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے مکانوں کی وسعت کے سامان پیدا کر دے گا۔اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی تیسری بات جو میں اس وقت کہنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ اس وقت ہمارے ملک میں جیسا کہ حکومت کی طرف سے بار بار اعلان ہو رہا ہے غذائی بحران پایا جاتا ہے جہاں تک حکومت سمجھتی ہے ( اور جہاں تک میں نے بھی غور کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ صحیح نتیجہ پرپہنچی ہے ) ہمارے ہاں غذا کی اتنی زیادہ قلت نہیں لیکن ایک تو تقسیم میں بعض روکیں ہیں اور دوسرے بعض اور مسئلے بھی ہیں مثلاً بعض لوگ اپنے بخل کی وجہ سے اپنی حرص کی وجہ سے اور لالچ کی وجہ سے جنسوں کو دبائے رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ بہت ساری اور بھی چیز میں ہیں جن کے نتیجہ میں ملک کے اندر وقتی طور پر غذائی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ہم یہ تو نہیں چاہتے کہ بعض دوسرے ملکوں کی طرح جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کو یہ کہیں کہ اس سال تھوڑا کھانا بلکہ جہاں تک کھانے کی مقدار اور کھپت کا سوال ہے اور جہاں تک کھانے کی کیفیت کا سوال ہے یعنی یہ کہ وہ اچھا پکا ہوا ہو اس میں کمی نہیں آنی چاہیے بلکہ اگر ممکن ہو تو اس میں ہر سال زیادتی ہونی چاہیے۔اس لئے کہ ہمارا قدم ترقی کی طرف ہے اور ہر میدان میں ہمارا قدم ترقی کی طرف جانا چاہیے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اس سال خاص طور پر احتیاط برتی جائے کہ کھانا ضائع نہ ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس بات پر اتناز ور دیا ہے کہ آپ اس بات کو بھی نا پسند فرماتے تھے۔کہ کوئی شخص اپنی پلیٹ میں اتنا سالن ڈال لے کہ ایک لقمہ کے برابر سالن بچ جائے اور اس کا پیٹ بھر جائے۔کیونکہ اس طرح وہ لقمہ ضائع ہو جائے گا آپ فرماتے ہیں یہ لقمہ بھی کیوں ضائع ہو گیا کیونکہ یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہے اس کی رحمت ہے جو غذا کی شکل میں ہمارے سامنے آئی ہے اور تم اس کو ضائع کر کے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے والے بنتے ہو۔تم اپنی پلیٹ میں اتنا سالن ہی ڈالو جتنا تم کھا سکو اور پلیٹ میں کچھ بھی نہ بچے۔کیونکہ جو سالن پلیٹ میں بچ جاتا ہے وہ ضائع چلا جاتا ہے اسی طرح اپنے گھر میں