خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 537
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۳۷ خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۶۶ء ہے اس کی رحمت میں بھی ہوتی ہے یہ ہر قسم کی وسعتیں اللہ تعالی پیدا کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور پھر اس رسول کے نائبین کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی مجلسوں میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام کے مطابق اپنے مکانوں میں وسعت پیدا کرو گے۔یعنی خود سمٹ جاؤ گے تا کہ وسیع تر ایر یا جماعتی اغراض کے لئے پیش کیا جا سکے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم پر فضل اور رحم کر کے ہر لحاظ سے وسعت کے سامان پیدا کر دے گا۔تمہارے مکانوں میں بھی زیادہ کمرے بن جائیں گے۔اب دیکھ لو جماعت احمد یہ ایک چھوٹی سی اور غریب جماعت ہے لیکن جب ربوہ دنیا کے لئے حسد اور حیرت کا نشان چھوڑتا ہوا آباد ہوا۔تو لوگ سمجھ نہیں سکتے تھے کہ اس چھوٹی سی جماعت نے اپنے لئے ایک مرکز ، ایک قصبہ کیسے آباد کر لیا۔جس میں کئی کالج ہیں کئی سکول ہیں ، ایک بڑا اچھا ہسپتال ہے۔ان کے علاوہ ہزار ہا قسم کے خرچ ہیں جو جماعت نے کئے اور ہر قسم کی سہولت یہاں بہم پہنچائی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ اب سینکڑوں خاندان ایسے ہیں کہ کمانے والے یہاں نہیں رہتے ان کے بیوی اور بچے یہاں رہتے ہیں وہ انہیں یہاں چھوڑ جاتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ جتنی حفاظت ان کی بیویوں اور بچوں کی ان کی اپنی موجودگی میں کی جا سکتی ہے ان سے زیادہ محفوظ وہ اس وقت اس فضا میں ہیں کیونکہ ساری جماعت کی حفاظت انہیں حاصل ہے اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچے تو جماعت کو اس کا دکھ پہنچتا ہے۔لیکن لاہور جیسے بڑے شہر میں کسی کو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ اس کے ہمسایہ میں کون بس رہا ہے اور اسے کوئی تکلیف یا کوئی ضرورت ہے یا نہیں۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ کا فضل ہے یہاں ہر ایک کی تکلیف اور دکھ کا جماعت کو احساس ہے تو یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ قصبہ آباد ہو گیا اور اس کی آبادی میں ایک حصہ اس چیز کا بھی ہے کہ یہاں کے مکینوں نے ہمیشہ جماعتی ضرورت کے وقت اپنے اوپر سنگی وارد کرتے ہوئے بھی اپنے مکانوں کے بعض حصے پیش کر دیئے خصوصاً جلسہ سالانہ کے موقع پر۔جلسہ سالا نہ کے دنوں میں ہم کھانا کے سلسلہ میں افراد کی تعداد کو چیک کرتے ہیں میں اس بات کا خود شاہد ہوں کہ بعض دفعہ ہمیں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ شخص جو پچاس آدمی کا کھانا لے جا رہا