خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 524 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 524

خطبات ناصر جلد اول ۵۲۴ خطبہ جمعہ ۱۶؍دسمبر ۱۹۶۶ء اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں اور پھر اپنے عملی نمونہ سے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریروں اور ملفوظات میں اسلام کی جس بنیادی چیز کی طرف ہمیں متوجہ کیا اور بڑے زور اور شدت سے جس کی ہمیں تلقین کی اور جس کے متعلق فرمایا کہ اسلام کی روح اس میں ہے اسے چھوڑ نانہیں۔اسے بھول نہ جانا۔اسے ترک نہ کر دینا اس کی حفاظت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنا وہ چیز تقوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی نثر میں اور نظم میں اور اپنی تقاریر اور ملفوظات میں اور اپنی کتب میں۔غرض ہر موقعہ اور ہر مقام پر اور ہر جگہ اس بات پر بڑا ہی زور دیا ہے کہ اسلام کی روح تقویٰ میں ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں۔سنو ہے حاصل اسلام تقویٰ خدا کا عشق ہے اور جام تقویٰ یعنی اسلام کا نچوڑ اور لب لباب اور حاصل اسلام تقویٰ ہے اور تقویٰ کی مثال اسلام میں ایسی ہی ہے۔جیسا کہ شراب اور صراحی کی مثال ہو۔گویا اللہ تعالیٰ کا عشق تقویٰ کی صراحی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا تقویٰ ہی ہے جو خدا کے عشق کو اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ثابت کرتا ، دکھاتا اور اس کی حفاظت کرتا ہے۔کسی کا تقویٰ ہی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ انسان واقعہ میں اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والا۔اس سے تعلق رکھنے والا اور اس سے محبت رکھنے والا ہے۔کیونکہ یہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتا ہے۔اسلام کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے نفس کی اس رنگ میں اور اس طور سے حفاظت کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول نہ لینے والا ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا ہو۔اس کا کرنا اور اس کا ترک کرنا ہر دو اس بات پر منحصر ہوں کہ آیا اس چیز کے کرنے سے میرا رب راضی ہو گا۔آیا اس چیز کو ترک کر دینے کے نتیجہ میں میں اپنے مولیٰ اور اپنے پیدا کرنے والے کی محبت کو حاصل کرلوں گا۔اگر اس کا علم اگر اس کی فراست اس کو یہ کہے کہ اگر تم نے یہ چیز چھوڑ دی تو تمہارا پیدا کرنے والا تم سے خوش ہو جائے گا۔اگر تم نے ان باتوں کو