خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 37 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 37

خطبات ناصر جلد اول ۳۷ خطبہ جمعہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۶۵ء کے لئے لے کر آئے تھے۔پس وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ کے معنی یہ ہوئے کہ تو دنیا کی ایسے رنگ میں اصلاح کر۔اپنے اخلاق سے اپنے دلائل سے اپنی قبولیت دعا کے نشان سے اور ان نشانات آسمانی سے جو خدا تعالیٰ تمہارے لئے مقدر کرے کہ وہ اپنے رب کو پہچاننے لگیں اور اس عذاب میں مبتلا نہ ہوں جو دوسری صورت میں ان کے لئے مقدر ہو چکا ہے۔وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ شرک سے بچو۔ایک شرک تو ظاہری ہے وہ یوں کہ بتوں کی پرستش کی جائے۔اس شرک میں سوائے نہایت ہی جاہل شخص یا جاہل قوم کے اور کون مبتلا ہوسکتا ہے۔لیکن شرک کی بہت باریک راہیں بھی ہیں ان سے بچتے رہنا بھی نہایت ضروری ہے۔حقیقت یہی ہے کہ جب تک ہم لائے محض ہو کر کلیۂ خدا تعالیٰ کے آستانہ پر نہ جھک جائیں اور اس کے حضور نہ گرے رہیں اس وقت تک ہم تو حید کے حقیقی مقام پر کھڑے نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ شرک کی باریک راہوں سے بھی بچو اور اس کے مقابل تقویٰ کی باریک راہوں پر گامزن رہو۔تمہارے خیالات ہر قسم کے شرک سے پاک ہوں۔تمہارا دل ہر قسم کے شرک کی نجاست سے مطہر ہو۔اور تمہاری آنکھوں میں توحید کی چمک۔اس کی ضیاء اور اس کا نور ہو اور تمہارے اعمال توحید کی طرف بلانے والے ہوں اور تمہارے اندر سے ایسا نور نکلے کہ جس ماحول میں بھی تم چلے جاؤ اس ماحول کے لوگ تمہاری طرف اس لئے کھچے آئیں کہ تم ان لوگوں کو خدا تعالیٰ سے متعارف کرنے والے ہو۔پس ہر حالت میں ہر قسم کے شرک کو چھوٹا ہو یا بڑا باطنی شرک ہو یا ظاہری شرک اسے مٹانے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔کیونکہ اس کے بغیر آج دنیا کی نجات ممکن نہیں۔وَلَا تَمنن تستكثر فرمایا کہ ہم ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں۔معجزات کے ذریعہ، نشانات کے ذریعہ، دعاؤں کی قبولیت کے ذریعہ اور ملائکہ کے نزول کے ذریعہ جو دنیا میں انتشار روحانی پیدا کر رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں کو خدا تعالیٰ کی طرف ، خدا کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف،