خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 505 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 505

خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء ہر تنظیم کو اپنے دائرہ کے اندر کام کرنا چاہیے اور دوسری تنظیموں سے بہر حال تعاون کرنا چاہیے خطبه جمعه فرموده ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء بمقام احمد یہ ہال۔کراچی تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ نے یہ آیت پڑھی۔روووو وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ اعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُم بِنِعْمَتِه اِخْوَانًا ۚ وَ كُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ - اس کے بعد فرمایا:۔(آل عمران : ۱۰۴) جو آیت کریمہ میں نے ابھی پڑھی ہے اس میں وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا کے ارشاد میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں تین حکم دیئے ہیں۔ا۔حَبْلُ اللہ کے ایک معنی عہد کے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ اے مومنو! جنہوں نے خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کے رسول کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنے رب سے ایک عہد بیعت باندھا ہے تم اس عہد پر مضبوطی سے قائم رہنا کیونکہ جو لوگ خدا سے عہد باندھ کر بعد میں اسے بھول جاتے یا اسے توڑ دیتے ہیں اور اس عہد کی ذمہ واریوں