خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 495
خطبات ناصر جلد اول ۴۹۵ خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۶۶ء حاصل ہیں اور اپنے جلال اور قدرتوں کے اظہار کے لئے اس نے یہ طریق رکھا ہے کہ بعض دفعہ تم ساری عمر دعائیں کرتے رہو۔آخری وقت تک وہ کہتا ہے کہ میں نہیں سنتا۔کون ہے جو ز بر دستی اسے منوا سکے؟ اور جب فضل کرنے پر آتا ہے تو سر کے اشارے کو بھی دعا سمجھ لیتا ہے اور قبول کر لیتا ہے۔ہماری زندگی میں بہت سے ایسے واقعات گزرے ہیں کہ منہ سے لفظ نہیں نکلا صرف اشارہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اس وقت اس بندے کی دعا اسی طرح قبول کر لو۔۵۴ء کی بات ہے۔جب میں کالج بنا رہا تھا تو ہمارا ایک بہت بڑا سیٹل پڑ رہا تھا اور سوڈیڑھ سو سیمنٹ کی بوری ریت اور بجری میں ملی ہوئی ساتھ کی چھت پر پڑی تھی تو کیا دیکھتے ہیں کہ شمال کی طرف سے کالا بادل اُٹھا ہے۔اگر وہ برس جائے تو سوڈیڑھ سو بوری جماعت احمدیہ کا نقصان ہوتا ہے اس وقت میرے دل میں تحریک ہوئی (ایسی تحریک بھی دراصل خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے ) کہ اگر بادل بر سے تو میرا ذاتی نقصان تو نہ ہوگا اگر ہو گا تو خدا تعالیٰ کی جماعت کا ہوگا اس لئے اس وقت بادلوں کو کہنا چاہیے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔چنانچہ میں نے سر اُٹھایا اس وقت بہت سے آدمی موجود تھے اس لئے میں نے منہ سے کوئی بات نہیں نکالی صرف سر سے ہلکا سا اشارہ کیا کہ بادلو! ایک طرف ہٹ جاؤ۔“ ساتھ ہی ہم اپنا کام بھی کرتے رہے۔ہم سے نصف میل کے فاصلہ پر بڑی تیز بارش ہوئی اور سارا دن بادل منڈلاتے رہے لیکن ہمارے ہاں بارش نہیں ہوئی۔تو جب خدا تعالٰی ماننے پر آتا ہے تو اس طرح بھی مان لیتا ہے اور کبھی ساری عمر ایک دعا کرتے رہو وہ نہیں مانتا۔اس پر کسی کا زور تو نہیں ہے۔جب مانتا ہے تب بھی اپنی قدرت کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔جب نہیں مانتا تب بھی اپنے جلال کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے۔کبھی دعا سن کر امتحان لیتا ہے۔کبھی نہ سن کر آزمائش کرتا ہے۔خادم خادم ہی ہے اور آقا آقا ہی ہے۔اگر مانے تو اس کا احسان اگر نہ مانے تب بھی ہم خادم اس دروازہ سے بھاگ کر کہاں جائیں گے۔میں بتا رہا تھا کہ توجہ کے ساتھ بات سننے سے صرف اس بات کا اظہار کرنے سے کہ ہمارے دلوں میں تمہاری ہمدردی ہے۔جہاں تک ہمارے بس میں ہوا، جہاں تک قانون نے ہمیں اجازت دی۔جہاں تک یہ سوال ہوا کہ ہمارے سلسلے کو کوئی نقصان پہنچے گا ہم ہر طرح تمہاری