خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 494 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 494

خطبات ناصر جلد اول ۴۹۴ خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۶۶ء اس لئے میں عہد یداروں کو کہتا ہوں کہ ایسی شکایتوں کو برا منا کر خفگی کا اظہار نہ کیا کریں۔دوسرے میں عہدیداروں اور افسروں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی ہاری یا مزدور کوکسی قسم کی شکایت ہو اور آپ سمجھتے ہوں کہ وہ شکایت غلط ہے تو آپ اسے بلا کر سمجھا ئیں اور بتائیں کہ واقعہ دراصل یہ ہے۔تو عام طور پر اس کی تسلی ہو جائے گی۔ہمارے زمینداروں میں سے ایک حصہ ان پڑھ ہے وہ لکھ پڑھ نہیں سکتا۔وہ کچھ سوچتا ہے، کچھ سنتا ہے اور پھر اس کا غلط نتیجہ نکالتا ہے۔ہاریوں کا یہاں حساب کتاب تو رہتا ہے اگر رجسٹر سامنے رکھ کر آرام سے تحمل سے، پیار سے اس کو سمجھایا جائے کہ تم جو خیال کر رہے ہو وہ صحیح نہیں۔دراصل حالات یہ ہیں ہم نے اس طرح کیا ہے۔تمہاری کوئی حق تلفی نہیں ہوئی تو سو میں سے ننانوے آدمی سمجھ جائیں گے۔ممکن ہے بعض بدظنی کریں اور شکایت اوپر لے جائیں لیکن سو میں سے ننانوے آدمی سمجھ جائیں گے۔پس ایک تو زمینیں سنبھالنے کا نظام ہے اس کے متعلق میں نے کچھ باتیں مختصر بیان کر دی ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی دی اور توفیق بخشی تو اگلے دورے کے لئے لمبا وقت رکھیں گے اس طرح زیادہ افراد کی شکایات سنی جاسکیں گی اور ان کی تکالیف کا ازالہ بھی کیا جا سکے گا۔اس دورہ میں زیادہ لوگوں سے الگ الگ نہیں مل سکا عموماً میں ہمیں ہمیں تھیں، چالیس چالیس، پچاس پچاس لوگ اکٹھے ملتے رہے جس کی وجہ سے وہ لوگ جن کو کوئی تکلیف یا اُلجھن یا کوئی پریشانی تھی مثلاً بچوں کی پڑھائی کے سلسلہ میں، یا اپنی شادی کے سلسلہ میں یا زمینوں کے سلسلہ میں وہ بیان نہیں کر سکا اور نہ تنہائی میں اپنے نجی معاملہ کے لئے دعا کے لئے کہہ سکا۔یہاں یہ بتا دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ دعا کے متعلق آپ میں سے کسی شخص کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی ہر دعا ضرور قبول کرتا ہے وہ تو قادر مطلق ہستی ہے۔جب چاہتا ہے اپنی منواتا ہے اور جب اپنا احسان اور فضل کرنا چاہتا ہے تو پھر اپنے ایک عاجز نحیف اور بے بس بندے کی التجا قبول کرتا اور دعا کو سنتا ہے اور اس طرح اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے۔کبھی کسی شخص کے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ میں یا کوئی اور شخص اپنی ہر ایک بات خدا تعالیٰ سے منوالے گا۔نَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ ) خدا ہمارا خادم تو نہیں ہے وہ تو ہمارا آتا ہے۔ساری قدرتیں اسے ہی