خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 477 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 477

خطبات ناصر جلد اول ۴۷۷ خطبہ جمعہ ۱۱ار نومبر ۱۹۶۶ء میں اتنے علوم ہیں کہ تم اپنی تمام الہامی کتب میں سے وہ علوم نہیں نکال سکتے۔اگر تم نکال سکو تو میں سمجھوں گا کہ قرآن کریم کی کوئی ضرورت نہیں۔باقی قرآن بہت بڑی کتاب ہے اس کے علوم تک تو تمہارا تخیل بھی نہیں پہنچ سکتا۔چنانچہ اس چیلنج کو دیئے پچاس ساٹھ سال ہو چکے ہیں اور اس چیلنج کے قبول کرنے والے کو رعلیہ السلام نے پانچ سو روپیہ دینے کا وعدہ بھی کیا لیکن کسی عیسائی کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ اس چیلنج کو قبول کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سورۃ فاتحہ کی جو تفسیر فرمائی ہے اُردو میں یا عربی میں چیلنج قبول کرنے سے پہلے پھیلنج قبول کرنے والے کو وہ پڑھنی چاہیے لیکن وہ دوسرے لوگوں سے بعض مطالب سن کر ہی اس فیصلہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ اس طرف نہ آنا چاہیے۔اب میں نے پانچ سو روپے سے بڑھا کر انعام کی رقم پچاس ہزار روپیہ کر دی ہے تو سوائے ایک دو د یسی پادریوں کے اور کوئی اس چیلنج کے متعلق کچھ کہنے کی جرات نہیں کر سکا۔جو بولے وہ بھی ایسے پادری تھے کہ دنیائے عیسائیت میں ان کو کوئی خاص مقام حاصل نہیں اور انہوں نے جو لکھا وہ بھی طفلانہ بیان ہے۔چیلنج یہ تھا کہ جو مطالب اور مضامین سورۃ فاتحہ میں پائے جاتے ہیں۔وہ کوئی عیسائی اپنی تمام الہامی کتب سے نکال کر دکھاوے۔اگر کوئی ایسا کر دکھائے تو ہم سمجھیں گے اس نے اسلام کا کچھ مقابلہ کر لیا ہے اور ہم اسے انعام دے دیں گے۔لیکن بجائے اس کے کہ وہ ہم سے یہ پوچھتے کہ آپ نے مسیح موعود علیہ السلام کے چیلنج کو دہرایا ہے اور پانچ سو روپیہ کے انعام کو پچاس ہزار روپیہ میں بدل دیا ہے۔دکھاؤ وہ مضامین کون سے ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئے ہیں تا کہ وہی یا اس سے بہتر مضامین بائیبل سے نکال کر دکھائے جائیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ ہمیں آپ کا چیلنج منظور ہے۔لیجئے جواب یہ ہے۔حمد کا لفظ بائیبل کی فلاں کتاب کے فلاں باب کی فلاں آیت میں اور فلاں کتاب کے فلاں باب کی فلاں آیت میں پایا جاتا ہے۔پھر لکھا کہ لفظ رب بائیبل کی فلاں کتاب اور فلاں باب اور فلاں آیت میں موجود ہے۔