خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 454 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 454

خطبات ناصر جلد اوّل ۴۵۴ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء میں ماہوار آمد کا ۱/۵ دیا جائے۔اگر دفتر دوم کے مجاہد حضور کی اس خواہش کو پورا کر دیں تو ہمارا اندازہ ہے کہ رقم پانچ لاکھ تک پہنچ جائے گا۔سال رواں میں دفتر سوم کا بھی اجراء ہوا ہے یہ کچھ لیٹ ہو گیا ہے۔کیونکہ ایک جگہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس بات کا اظہار بھی کیا ہے کہ ہر دس سال کے بعد ایک دفتر کھلتا ر ہے تا کہ آنے والے جانے والوں کی جگہ کو پُر کرتے رہیں۔پس دفتر سوم کے اجراء میں تاخیر ہو گئی ہے اور دس سال کی بجائے اکیس سال بعد دفتر سوم کا اجراء ہوا ہے۔وہ بھی اس وقت جبکہ سال کا نصف حصہ غالباً گزر چکا تھا۔سو اس وقت تک دفتر سوم کے سال اول کے وعدے ۱۸ ہزار روپے کے آئے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں جب کہ اعلان بھی دیر کے بعد ہوا اور اس دفتر کے بہت سے لوگ پہلے ہی دفتر دوم میں شامل ہو چکے تھے ۱۸ ہزار دفتر سوم کی پوری رقم نہیں ہے۔لیکن اگر وہ احمدی دوست جن کا تعلق دفتر سوم کے ساتھ ہے۔اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دیں تو آئندہ سال یعنی اپنی عمر کے دوسرے سال، دفتر سوم کے وعدے کم از کم ایک لاکھ تک ہونے چاہئیں اور یہ کوئی مشکل امر نہیں کیونکہ اس کے لئے بھی ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر ایسے دوست اس طرف متوجہ ہوں جو دفتر سوم میں آتے ہیں۔ان کے وعدے آسانی سے ایک لاکھ تک پہنچ سکتے ہیں۔ویسے تو اللہ تعالیٰ نے جماعت کو قربانی کی بڑی توفیق عطا کی ہے اور اس کو وہ قبول بھی فرماتا ہے۔اور جب وہ قبول فرماتا ہے۔تو هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة : ۳) کی روشنی میں مزید ہدایت اور ہدایت کے ارفع تر مقام کی طرف انہیں لے جاتا ہے اور مزید قربانیاں دینے کا جذ بہ اور شوق ان میں پیدا ہوتا ہے۔تحریک جدید کے پہلے سال جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی سکیم مختلف خطبات میں دوستوں کے سامنے رکھی۔تو آپ نے اس کے لئے چندہ کا اندازہ ا۲۷ ہزار روپیہ جماعت کو بتایا۔لیکن اس کے مقابلہ میں اس سکیم کو چلانے کے لئے جماعت نے اٹھانوے ہزار روپیہ ( دو ہزار کم ایک لاکھ ) حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔