خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 31
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۶۵ء جماعت احمدیہ کے لئے آئندہ پچیس تیس سال نہایت اہم ہیں خطبه جمعه فرموده ۱۰ ردسمبر ۱۹۶۵ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ المدثر کی پہلی یہ آیات تلاوت فرمائیں۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - يَاَيُّهَا الْمُدَّثِرُ - قُم فَأَنْذِرُ - وَ رَبَّكَ فَكَبْرُ - وَثِيَابَكَ فَطَهَّرُ - وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ - وَلَا تَمُثْنُ تَسْتَكْثِرُ - وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ - (المدثر : ۱ تا ۸) پھر فرمایا :۔میرے دل میں بڑے زور کے ساتھ یہ ڈالا گیا ہے کہ جماعت احمد یہ تربیت کے جس مقام پر اس وقت کھڑی ہے۔اس مقام کے ساتھ سورۃ المدثر کی جو آیات میں نے پڑھی ہیں ان کا بڑا گہرا تعلق ہے اور اس میں ایک اہم پیغام ہے جماعت کے نام۔میں اس وقت اسے دوستوں کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں لیکن اس سے پہلے میں ان آیات کی عام تفسیر بیان کر دوں گا۔تا دوستوں کو خدا تعالیٰ کی اس آواز کو سمجھنے میں آسانی اور سہولت ہو۔مدثر کے عربی میں یہ معنی ہیں وہ شخص جس نے وہ کپڑے پہن لئے ہوں جو کام کرنے کے لئے پہنے جاتے ہیں۔عام طور پر یہ