خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 453
خطبات ناصر جلد اول ۴۵۳ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء کیا ہے کہ دفتر دوم کی وصولی پانچ لاکھ تک پہنچ جانی چاہیے۔لیکن اس وقت تک کہ دفتر دوم پر بائیس سال گزر چکے ہیں سال رواں میں اس کے وعدے صرف دولاکھ نوے ہزار تک پہنچے ہیں۔یعنی اگر دو لاکھ دس ہزار مزید وعدے ہوں تب ہم حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خواہش کو پورا کرنے والے ہوں گے۔سو اس وقت بڑا بوجھ دفتر دوم پر ہے کیونکہ اس میں جب دینے والے لوگ ابھی اتنے بوڑھے نہیں ہوئے۔جتنے بوڑھے دفتر اول کے مجاھد ہو چکے ہیں۔دفتر اول کے مجاہدین میں سے بہت سے تو اپنے رب کو پیارے ہو گئے۔عمر کے ساتھ موت وفوت بھی لگی ہوئی ہے۔کسی نے ابدی طور پر اس دنیا میں نہیں رہنا ہے۔پس کچھ دوست تو ان میں سے فوت ہو گئے کچھ ریٹائر ہو گئے۔کچھ دوسرے پیشہ وروں کی آمدنی میں معمر ہونے کی وجہ سے کمی ہو گئی۔مثلاً ڈاکٹر ہیں وکیل ہیں۔ان کی عمر جب ایک حد سے گزر جائے تو وہ پورا کام نہیں کر سکتے۔ان کا جسم اور دماغ آرام چاہتا ہے۔اس سے ان کی آمد میں فرق پڑ جاتا ہے اور کچھ اس لئے بھی کہ اس عمر میں ان کے بچے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ان کی امداد کے قابل ہو جاتے ہیں۔ان کو خیال ہوتا ہے۔کہ ہماری ضرورتیں تو پوری ہو رہی ہیں۔ہم زیادہ کیوں کمائیں اور کمائی کے مطابق ہی انہوں نے چندے ادا کرنے ہیں۔تو دفتر اول وہ ہے جو آہستہ آہستہ ہماری نظروں کے سامنے دھندلا ہوتا چلا جا رہا ہے اور ایک وقت میں ہمارے سامنے سے یہ غائب ہو جائے گا۔دفتر دوم وہ ہے کہ جو اس وقت مالی بوجھ کا بڑا حصہ اور دوسرے بوجھوں کا بڑا حصہ بھی اٹھا رہا ہے۔پس دفتر دوم کے مجاہدین کو بہت چست ہونے کی ضرورت ہے اور اگر ہمارے یہ بھائی اور دوست تھوڑی سی ہمت کریں تھوڑی سی کوشش کریں ذراسی مزید توجہ دیں۔تو یہ بعید نہیں کہ وہ اس رقم کو پورا کرسکیں۔جس کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ہم نے غور کیا ہے اور سوچا ہے کہ تھوڑی سی مزید ہمت اور توجہ سے اس دفتر کے مجاہدین اپنے چندوں کو پانچ لاکھ تک پہنچا سکتے ہیں۔مثلاً حضور ( رضی اللہ عنہ ) کی خواہش تھی کہ تحریک جدید