خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 452
خطبات ناصر جلد اول ۴۵۲ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء بیان کی گئی ہے۔یعنی قرآن کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے دین کی راہوں میں جہاد کرنا اور اصولی طور پر یہ جہاد دوشکلوں میں کیا جاتا ہے۔ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اتنے زبر دست اور اتنی کثرت سے دلائل جمع کر دیئے ہیں کہ دنیا کا کوئی باطل عقیدہ خواہ کسی مذہب سے ہی تعلق کیوں نہ رکھتا ہو ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔تو عقائد باطلہ کا (خواہ وہ عقائد باطلہ عیسائیوں کے ہوں یا آریوں کے یا سکھوں کے یا دہریوں کے یا دوسرے بد مذاہب کے ہوں ) دلائل حقہ کے ساتھ مقابلہ کرنا بھی ایک زبر دست جہاد ہے جس کے نتیجہ میں اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو انسان اس کی رحمتوں کا وارث بنتا ہے۔اور دوسرے جَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان: ۵۳) تعلیم قرآن کو عام کرنے سے یہ جہاد کیا جاتا ہے کیونکہ مومنوں کی جماعت میں علوم قرآنیہ کو ترویج دینا۔ان کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت پیدا کرنا اور ان کو اس حق الیقین پر قائم کرنا کہ قرآن کریم بڑی برکتوں والی عظیم کتاب ہے اس سے جتنا پیار ہو سکتا ہے کرو۔اس سے جتنی محبت تم کر سکتے ہو کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بنو۔تو یہ بھی ایک مجاہدہ ہے اور اسی مجاہدہ اور جہاد کی طرف اس وقت میں بار بار جماعت کے دوستوں کو متوجہ کر رہا ہوں۔غرض مختلف اقسام جہاد یا مجاہدہ جن کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے اگر آپ ان کو سامنے رکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ تحریک جدید کے تمام مطالبات کا ان میں سے کسی نہ کسی کے ساتھ ضرور تعلق ہے۔یہ بڑا لمبا، گہرا اور وسیع مضمون ہے۔اگر ضرورت ہوئی اور خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو شاید میں کسی وقت اس پر بھی روشنی ڈالوں گا۔اس وقت میں صرف ایک چیز کو لینا چاہتا ہوں اور وہ ہے انفاق فی سبیل اللہ یعنی مالی قربانی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی رضاء کو حاصل کرنے کی کوشش اور اس کی رحمت کے حصول کی امید اس دعا کے ساتھ کہ وہ اپنا فضل ہمارے شامل حال کرے اور حقیقتا اور واقعہ میں ہم اس کی رحمتوں کے وارث بنیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی یہ خواہش تھی اور آپ نے اپنے خطبہ میں اس کا اظہار بھی