خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 438 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 438

خطبات ناصر جلد اول ۴۳۸ خطبه جمعه ۲۱/اکتوبر ۱۹۶۶ء بن نہیں آتا تو وہ پھر یہ حربہ استعمال کرتے ہیں کہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ الہی سلسلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت ہے جو دنیوی اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔اس طرح پر وہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ ان دلائل اور ان براہین اور ان تائیدات سماوی اور ان نفرتوں اور معجزات سے دنیا کی توجہ کو ہٹا دیں جو اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کے لئے آسمان سے نازل کرتا ہے۔آج کل بھی کچھ لوگ کھڑے ہوئے ہیں جو اپنی تقاریر میں یا بعض اخبارات میں پہلے سے بھی زیادہ یہ شور مچارہے ہیں کہ جماعت احمد یہ ایک سیاسی جماعت ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا پر یا پاکستان پر اپنا سیاسی اقتدار قائم کرے۔ایسے لوگوں کو ہمیں دلیل کے ساتھ بھی اور نمونہ کے ساتھ بھی یہ بتا دینا چاہیے کہ ہم ہرگز کوئی سیاسی جماعت نہیں ہیں۔دنیا کی محبت اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں ٹھنڈی کر دی ہے اور دنیا کی وجاہتیں اور دنیا کے اقتدار اور دنیا کی عزتیں ہماری نگاہ میں اتنی بھی قدر اور حیثیت نہیں رکھتیں جتنی کہ ایک ٹوٹی ہوئی جوتی اس آدمی کی نگاہ میں قدر رکھتی ہے جو اسے پھینک دیتا ہے اور اس کی بجائے نئی خرید لیتا ہے۔پس دنیا سے، دنیا کی سیاست سے، دنیا کی وجاہتوں اور عزتوں سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ہمیں اگر دلچسپی ہے تو صرف اس بات سے کہ گھر گھر اللہ تعالیٰ کی توحید کا جھنڈا لہرانے لگے۔دل دل میں اسلامی تعلیم گھر کر جائے اور روح ، روح محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں مست رہ کر اپنی زندگی کی گھڑیاں گزارنے لگے۔یہ ہے ہمارے قیام کی غرض اور یہ ہے ہماری زندگی کا مقصد ! چونکہ اس راہ میں جو دلائل اور تائیدات ہمیں دیئے گئے ہیں ان کا جواب نہ رکھتے ہوئے ہم سے دنیا کی توجہ کو ہٹانے کی خاطر ہمارا مخالف اور منکر ہم پر الزام لگا تا ہے کہ یہ لوگ دنیا کی وجاہت اور اقتدار کے بھوکے ہیں۔دراصل مذہب سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔اس لئے ان کے مقابلہ کے لئے اور ان کو جواب دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں دلیل بھی سکھائی اور معجزہ بھی عطا فرمایا ہے اور وہ معجزہ ہے نمونہ بن کر اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا۔اگر ہم اپنی زندگیوں کا ہر لمحہ خدا تعالیٰ کی توحید کے قیام کے لئے خرچ کر رہے ہوں۔اگر ہم