خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 436
خطبات ناصر جلد اول ۴۳۶ خطبه جمعه ۱۴ /اکتوبر ۱۹۶۶ء ہیں ہمارے لئے سوچنے اور غور کرنے کا یہ مقام ہے اور ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو نظر انداز کر کے ہمیں اس گروہ میں شامل کرے۔جو خالد بننے والے ہیں۔جو اس کی نگاہ میں خالد قرار دیئے جانے والے ہیں اور جو اس کے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینے والے ہیں۔جن کی تقریروں اور تحریروں میں خدا تعالیٰ اپنے فضل سے برکت دینے والا ہے جن کی تقریروں اور تحریروں سے دنیا فیض حاصل کرنے والی ہے۔دنیا سکون حاصل کرنے والی ہے دنیا ان راہوں کا عرفان حاصل کرنے والی ہے۔جو راہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف لے جانے والی ہیں جانے والا ہمیں بہت پیارا تھا لیکن جس نے اسے بلا یاوہ ہمیں سب دنیا سے زیادہ پیارا ہے ہم اس کی رضا پر راضی ہیں اور ہم اس پر کامل تو کل اور بھروسہ رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے اس جانے والے بھائی سے پیار اور محبت کا سلوک کرے گا اور اس سے یہ امید رکھتے ہیں کہ جب ہماری باری آئے اور ہمیں اس طرف سے بلاوا آئے۔تو وہ ہم سے بھی محبت اور پیار کا سلوک کرے گا۔پھر ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس جماعت میں ہزاروں مخلص نوجوان پیدا کرتا چلا جائے کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں تو ان کے ساتھ بھی وہی محبت پیار کا سلوک ہو جو محبت اور پیار کا سلوک شمس صاحب کو ملا۔جو محبت اور پیار کا سلوک میر محمد اسحاق صاحب کو ملا جو محبت اور پیار کا سلوک حافظ روشن علی صاحب کو ملا اور جو محبت اور پیار کا سلوک مولوی عبدالکریم صاحب کو ملا۔رِضْوَانَ اللَّهِ عَلَيْهِمْ - اَللَّهُمَّ آمِيْن - روزنامه الفضل ربوه ۱۹ / اکتوبر ۱۹۶۶ ء صفحه ۲ تا ۵) 谢谢谢