خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 27 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 27

خطبات ناصر جلد اول ۲۷ خطبه جمعه ۳؍دسمبر ۱۹۶۵ء مقابلہ نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ نے اخلاص کے نتیجہ میں ان کو ایک ایسا نور عطا کیا کہ وہ باریک بین اور نکتہ رس بن گئے۔وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کے قرب کے حصول کے لئے بڑے مجاہدات کرنے والے ہیں اور ہمیشہ اس کی رضا کے لئے متلاشی رہتے ہیں اور خدا اور اس کے رسول اور اس کے مسیح سے بے انتہا محبت کرنے والے ہیں۔۔لیکن اس کام کے لئے صرف ایک ایسا شخص کافی نہ ہو سکتا تھا حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی صفات کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش ہر ایک احمدی نورالدین بن جائے چنانچہ اپنے ایک فارسی کے شعر میں فرماتے ہیں :۔چه خوش بودے اگر ہر یک ز امت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے کہ کاش میری جماعت کا ہر فرد نور دین ہو جائے اور فرماتے ہیں کہ میں تمہیں ایک گر بتاتا ہوں اور تمہیں ایک نسخہ دیتا ہوں۔اگر تم اس پر عمل کرو گے۔تو تم بھی ایسے ہی بن جاؤ گے اور وہ یہ ہے کہ اپنے دلوں کو نور یقین سے بھر لو۔یقین اس بات پر کہ خدا ہے اور هُوَ اللهُ اَحَدُّ وہ ایک ہے۔یقین اس بات پر کہ خدائے تعالیٰ کی باتوں کو مان لینا عین سعادت ہے۔یقین اس بات پر کہ اس کی باتوں سے انکار کرنا اور اس کی آواز پر لبیک نہ کہنا اس کے قہر کا مورد بنا دیتا ہے۔یقین اس بات پر کہ وہ کامل طاقتوں اور قوتوں والا ہے۔کوئی اس سے فرار حاصل نہیں کر سکتا۔اور کوئی انسان اس کی محبت جیسی محبت اور کہیں نہیں پاسکتا۔بشرطیکہ وہ اپنے کو اس کی محبت کا مستحق بنائے۔یقین اس بات پر کہ جو اس کے وعدے ہیں وہ بچے ہوتے ہیں۔یقین اس بات پر کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے سچے مامور ہیں اور ان پر ایمان لانا ہمارے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔یقین اس بات پر کہ آج وہ تمام فضل اور رحمتیں جو اسلام سے وابستہ ہیں صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہی حاصل کی جاسکتی ہیں اور آپ کی جماعت سے باہر رہ کر انسان