خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 402
خطبات ناصر جلد اول ۴۰۲ خطبہ جمعہ ۶ ار ستمبر ۱۹۶۶ء جسمانی لحاظ سے اگر آپ غور کریں تو جس شخص نے جسمانی نشو و نما حاصل کرنی ہو۔اپنی جسمانی قوتوں اور استعدادوں کو اپنے کمال تک پہنچانا ہو اور اپنی زندگی کو کا میاب بنانا ہواس کے لئے پہلے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کی بیماری سے محفوظ ہو۔تو فرمایا کہ ہم نے قرآن کریم میں ایسا انتظام کر دیا ہے کہ تمام وہ روحانی بیماریاں جو شیطانی جراثیم سے پیدا ہوتی ہیں، پہلے ان بیماریوں کو دور کر دیا جائے اور مومنوں کے روحانی وجود میں کوئی شیطانی وسوسہ باقی نہ رہنے دیا جائے اور اس طرح ان کا وجود روحانی طور پر صحت مند وجود ہو جائے۔لیکن اتنا ہی کافی نہیں۔یہاں سے تو اصل کام شروع ہوتا ہے۔تو فرمایا کہ چونکہ تم روحانی ترقیات کے حاصل کرنے کے قابل ہو گئے ہو۔اس لئے اس مرحلہ پر بھی یہ کتاب تمہاری راہنمائی کرتی ہے۔فرمایا ھڈی یہ قرآن تمہارے لئے ھدایہ بھی ہے۔عربی زبان کے لحاظ سے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کتاب میں ایسی تعلیم نازل کی گئی ہے جو آج ہی نہیں بلکہ قیامت تک انسان کی صلاحیت اور استعداد کے مطابق اس کی راہنمائی کرتی چلی جائے گی۔( کیونکہ اس آیت میں یا يُّهَا النَّاسُ سے خطاب کیا گیا ہے ) وہ قرآنی ہدایت رضاء الہی کی راہوں پر گامزن ہونے کا طریقہ بتلاتی ہے اور بتلاتی چلی جائے گی۔وہ روحانی ترقیات کی غیر محدود را ہیں اس پر کھولتی ہے اور کھولتی چلی جائے گی اور ہر منزل پر پہنچ کر اسے ایک اور نئی بلندی اور رفعت عطا کرتی ہے اور پہلے سے بڑھ کر اخلاص اور وفا اور قربانی کا عملی نمونہ اسے پیش کرنے کی توفیق دیتی چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ مرد مومن ایثار اور محبت کی انتہائی رفعتوں کو اس کی اور محض اس کی برکت سے حاصل کر لیتا ہے اور اس کا انجام بخیر ہو جاتا ہے اور وہ اپنے محبوب ، اپنے مطلوب اور اپنے مقصود اور اپنی جنت اور اپنے رب کی رضا کو پالیتا ہے۔اس طرح انسان کے فطری قومی کو صحیح اور احسن راستہ پر چلانے کی طاقت اس کتاب میں رکھی گئی ہے۔چوتھی بات اللہ تعالیٰ نے اس کتاب مجید کے متعلق یہ فرمائی ہے کہ یہ رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ ہے۔رَحْمَةٌ کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں۔انعام دینے