خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 396
خطبات ناصر جلد اول ۳۹۶ خطبہ جمعہ ۱۶ار تمبر ۱۹۶۶ء مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ - الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ والنَّاسِ۔(الناس : ۵ تا ۷ ) اس میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ پناہ مانگو اس وسوسہ ڈالنے والے شیطان سے جو ہر قسم کا وسوسہ ڈال کر شرارت سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔یہاں ایک بنیادی اصول کا ذکر فرمایا کہ تمام گناہ شیطانی وسوسہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور شیطان وسوسہ ڈال کر خود غائب ہو جاتا ہے اور جس کے دل میں وہ وسوسہ ڈالتا ہے اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ وسوسہ ڈالنے والی ہستی شیطان تھی یا کوئی نیک ہستی تھی۔اگر شیطان خناس نہ ہو اور وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹنے والا نہ ہو تو کوئی عقل مند انسان شیطانی وساوس کا شکار ہو کر روحانی بیماری میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔پس شیطان صرف وسواس ہی نہیں بلکہ خناس بھی ہے۔پہلے وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور پھر وسوسہ ڈال کر خود پیچھے ہٹ جاتا ہے۔یعنی شیطان ، شیطان کی حیثیت سے اس شخص کی نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔پہلا گناہ جو انسان نے کیا وہ اسی وسوسہ کا نتیجہ تھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطنُ (الاعراف: ۲۱) کہ آدم اور حوا کے دل میں شیطان نے ایک وسوسہ ڈالا جس کے نتیجہ میں وہ ایک گناہ کے مرتکب ہوئے۔اس کے بعد بھی جب کبھی انسان گناہ کا مرتکب ہوا ہے تو اسی شیطانی وسوسہ کے نتیجہ میں ہوا ہے۔مثلاً وہ لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ خدا کے جتنے رسول بھی آئے ہیں وہ تمہیں یہ تعلیم دیتے چلے آئے ہیں کہ اپنے پیدا کرنے والے، اپنے رب، اپنے اللہ سے خُوْفًا وَطَمَعًا خوف کی وجہ سے اور طمع کی وجہ سے تعلق قائم کرو۔پس ہر وہ چیز جس کا خوف تمہارے دل میں پیدا ہو یا وہ چیز جسے تم سمجھو کہ تمہیں نفع پہنچانے والی ہے۔تم اس کی عبادت کرو کیونکہ مذکورہ تعلیم کا یہی نتیجہ نکلتا ہے۔تو سانپ کی عبادت خوف کی وجہ سے شیطانی وسوسہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔بڑ کے درخت کی عبادت بھی جو اس آرام (طبعا ) کی وجہ سے پیدا ہوئی۔جو اس کے نیچے بیٹھنے سے حاصل ہوتا ہے تو یہ سب شیطانی وسوسہ کا نتیجہ ہے۔