خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 389
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۸۹ خطبہ جمعہ ۹ر ستمبر ۱۹۶۶ء ہے۔کیونکہ جو لوگ جہنم میں جائیں گے بظاہر وہ بھی زندہ ہوں گے لیکن ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ نہ زندہ ہوں گے اور نہ مردہ لیکن حقیقی اور دائمی حیات وہ ہے جس کے اندرفنا، کمزوری یا بیماری کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔دوم۔جو چاہے اسے ملے۔اللہ تعالیٰ جنتیوں کے متعلق یہی کہتا ہے کہ جو وہ چاہیں گے ان کو مل جائے گا۔خدا کے نزدیک یہ بڑے پیار کا مقام ہے کہ ان کی کوئی خواہش رڈ نہ کی جائے گی۔یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کے دل میں کوئی ایسی خواہش پیدا نہ ہوگی جو خدا کی نگاہ میں رد کئے جانے کے قابل ہو۔نیک خواہشیں ہی ان کے دل میں پیدا ہوں گی اور انہیں پورا کر دیا جائے گا۔سوم۔اسے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور اس معاشرہ میں جس کا تعلق اُخروی زندگی کے ساتھ ہے۔(اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیسا ہے) اور جس قسم کے اجتماعی تعلقات ہوں گے اس میں اسے پوری اور حقیقی عزت حاصل ہوگی اور یہ خطرہ نہ ہو گا کہ اسے کبھی ذلیل بھی کر دیا جائے گا۔اور چہارم یہ کہ معرفت میں اسے کمال حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ کی صفات کی کامل معرفت اور ان کا کامل عرفان اس دنیا میں مادی بندھنوں میں بندھے ہونے کی وجہ سے ہم حاصل نہیں کر سکتے۔اس دنیا میں ہمارے لئے جن صفات کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں وہ ہمارے لئے اپنے کمال کو نہیں پہنچتے۔اگر کسی فرد واحد کے لئے خدا تعالیٰ کی صفات کا جلوہ اپنے کمال کو پہنچا تو وہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔اس جلوہ کو دیکھنے کے لئے ایک وقت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی بے تاب رہے۔مگر وہ ، وہ جلوہ دیکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک وجود کے علاوہ خدائی صفات کا کامل جلوہ کسی اور انسان پر نہیں ہوسکتا اور نہ ہوا۔جب یہ چاروں باتیں کسی انسان کو حاصل ہوں تو عربی زبان میں کہتے ہیں کہ وہ مفلح ( کامیاب ) ہو گیا۔پس لفظ فلاح بہت بڑی، بہت شاندار، بہت ارفع ، بہت اعلیٰ کامیابی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔تو فرماتا ہے کہ جو لوگ حقیقی طور پر اور صحیح معنی میں ایمان لاتے ہیں، جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تقویت پہنچانے کے لئے ہر قسم کی قربانی کرتے ہیں۔ایثار اور فدائیت کا نمونہ دکھاتے