خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 385 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 385

خطبات ناصر جلد اول ۳۸۵ خطبہ جمعہ ۹ ستمبر ۱۹۶۶ء ایمان لایا ہوں۔جس خدا کی کتاب کو میں نے مانا ہے اس میں یہ یہ خوبیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے دروازے وہ اس اس طرح ہم پر کھولتی ہے اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہمیں حاصل ہوتی ہیں۔غرض وہ زبان سے تبلیغ اور اشاعت اسلام کرنے والا ہو۔(۳) پھر اس کا محض زبانی دعوئی نہ ہو بلکہ اس کی ساری زندگی اسلام کا ایک نمونہ ہو اور وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہا ہو کہ جو دعویٰ اس نے زبان سے کیا ہے اس میں کوئی فریب نہیں۔تو فرمایا کہ وہ لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قسم کا ایمان لاتے ہیں وہی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں فلاح دارین کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔۲۴ پھر فرمایا وَ عَزَرُوهُ - عَزَرَ کے معنی ہیں فَخَمَهُ وَ عَظَمَهُ اور مفردات میں تَعْزِيرُ کے معنی یہ لکھے ہیں۔66 9 النُّصْرَةُ مَعَ التَّعْظِيمِ نُصْرَةُ بِقَمْعِ مَا يَضُرُّهُ مِنْهُ۔تو فر ما یا کہ آسمانی نصرتوں کے دروازے صرف انہی پر کھولے جائیں گے جو اس نبی امی کی بزرگی اور عظمت اپنے دلوں میں قائم کریں گے اور اس کی عظمت اور جلال کے قیام کے لئے دشمن کے مکروں اور تدبیروں اور ظالمانہ حملوں کے مقابل صدق وصفا کے ساتھ سینہ سپر ہوں گے اور دشمن کے تمام منصوبوں کا اپنے ایثار اور فدائیت کے ساتھ قلع قمع کر کے اس نبی امی کی قوت کا باعث بنیں گے اور قیام شریعت حقہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار بنیں گے۔عَزَّر کے مفہوم میں تعظیم بھی شامل ہے اور عذر کے معنی میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ اس کی مضبوطی کا باعث بنا اس کے دشمنوں کا مقابلہ کر کے اور ان تمام ضرر رساں چیزوں کو راستہ سے ہٹا کر جن سے اس کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو۔تو مدافعت کے لئے جو جہاد مسلمانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان دشمنانِ اسلام کے خلاف کیا۔جو اسلام کو مٹانے کے لئے تلوار لے کر اٹھے تھے وہ اس تعزیر کے اندر آتا ہے مطلب یہ کہ انہوں نے ہر قسم کی قربانی دے کر اس ضر ر کو دنیا سے مٹانے کی کوشش کی۔اب جماعت احمدیہ کے ذریعے جو لسانی اور قلمی جہاد قرآن کریم کی اشاعت و تبلیغ کے لئے