خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 382
خطبات ناصر جلد اول ۳۸۲ خطبہ جمعہ ۹ ستمبر ۱۹۶۶ء سے بہت سی رسوم جاری کر رکھی تھیں اور بہت سی بدعتوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔یہی ان کا مذہب تھا یہی ان کی شریعت تھی۔ایسی شریعت جس کا کوئی رشتہ آسمان سے قائم نہ تھا لیکن جو ان کے جاہل دلوں کو تسلی دے دیا کرتا تھا۔تو اس آیت کے پہلے حصہ يَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ کا تعلق ان اقوام سے ہے۔جن کا رشتہ اپنی شریعت سے منقطع نہیں تھا اور ہر نبی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل اپنی اپنی امت سے اللہ تعالیٰ کے نام پر عہد بیعت لیا اور وہ ایک پختہ عہد پر قائم تھے۔وہ میثاق اور عہد یہ تھا کہ وہ قو میں اپنی اپنی شریعت کو اپنے اندر قائم کریں گی اور ان میں سے ہر ایک شخص اس پر خود بھی عمل کرے گا اور دوسروں سے بھی عمل کرانے کی کوشش کرے گا۔اگر چہ ان کی شریعت بہت حد تک محرف و مبدل ہو چکی تھی اور بہت سی بدعتیں اور رسوم انہوں نے اپنی شریعت میں ملا دی تھیں۔لیکن ان میں سے ایک جماعت سمجھتی یہی تھی کہ وہ خدا کی شریعت ہے۔اور ہم نے اپنے رب سے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اس شریعت پر قائم رہیں گے اور اسے قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں فرمایا ہے۔۔امر وَإِذْ اَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ - (ال عمران : ۱۸۸) یعنی اس وقت کو یاد کرو کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی عہد لیا تھا کہ تم ضرور اپنی قوم کے لوگوں کے پاس اس کتاب کو ظاہر کرو گے ( اپنے قول سے بھی اور اپنے عمل سے بھی ) اور اس کی تعلیم کو وضاحت کے ساتھ اور کھول کھول کر بیان کرو گے اور عوام سے اس کو چھپاؤ گے نہیں بلکہ اس کی تعلیم کو عام کرو گے تا علی وجہ البصیرۃ اور حق الیقین کے ساتھ وہ اس پر ایمان لانے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہوں مگر باوجود اس کے انہوں نے اسے اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور اسے چھوڑ کر تھوڑی سی قیمت ( جو د نیوی مال و متاع ہیں ) لے لی اور اُخروی نعمتوں کو دنیوی لذات پر قربان کر دیا۔اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو وہ لیتے ہیں بہت ہی بُرا ہے۔