خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 363 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 363

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۶۳ خطبہ جمعہ ۱۹ راگست ۱۹۶۶ء نیکیوں سے محروم ہو جاتے ہیں کہ اگر وہ سادگی کو اختیار کرتے۔اگر وہ رسوم کی پابندی کو چھوڑ دیتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان نیکیوں کی توفیق عطا کرتا اور ان کو اس دنیا میں بھی اور اُخروی زندگی میں بھی ایسی نعمتیں حاصل ہوتیں کہ دنیا کی لذتیں اور دنیا کے عیش اور ان کی نمائشیں ان کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہ رکھتیں۔پس جماعت کو چاہیے کہ تحریک جدید کے ان مطالبات کو دہراتی رہے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے تا کہ اس طرح وہ اپنے پیسوں کو بچا سکے اور اس کی قربانی کی قوت اور استعداد پہلے کی نسبت بڑھ جائے اور وہ اپنی اس بڑھی ہوئی حیثیت اور طاقت کے مطابق قربانی کرنے والی ہو۔اس طرح دوست پہلے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔(۳) تیسری بات جس کی طرف قرآن کریم ہمیں متوجہ کرتا ہے وہ جذ بہ ایثار ہے اور شیخ نفس سے بچنا ہے۔جب یہ جذبہ پیدا ہو جائے تو انسان بہت سی جائز ضرورتوں کو بھی کم کر سکتا ہے۔صحت کو نقصان پہنچائے بغیر اور اور کسی قسم کا حقیقی نقصان اٹھائے بغیر ! تو جب جذبہ ایثار بڑھ جائے تو قربانی کرنے کی قوت اور استعداد بھی بڑھ جاتی ہے اور اس کا ذریعہ دعا ہے ہمیں ہر وقت یہ دعا بھی کرتے رہنا چاہیے کہ اے خدا! تو نے ایک نورقرآن کریم کی شکل میں نازل کیا اس میں جہاں تو نے ہمیں اور بہت سی حسین ہدایتیں اور احکام دیئے ہیں وہاں انفاق فی سبیل اللہ کے متعلق بھی بڑی ہی حسین اور وسیع تعلیم تو نے ہمارے سامنے پیش کی ہے اور ہمیں بتایا ہے کہ اگر ہم تیری راہ میں ان طریقوں پر جو تو نے بتائے ہیں اپنے اموال کو خرچ کرنے والے ہوں گے۔تو تو بہت سے انعامات اور فضل ہم پر نازل کرے گا۔تو اے خدا تو ہمیں اپنے فضل سے اس بات کی توفیق عطا کر کہ ہم اس ہدایت پر عمل پیرا ہونے والے ہوں تا کہ ہم تیری نعمتوں اور فضلوں کو حاصل کر سکیں۔پس ہم ان تین طریق سے اپنی قوت اور استعداد کو بڑھا سکتے ہیں۔تو جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ ہم اپنی طاقت سے بڑھ کر اس کی راہ میں قربانی دیں لیکن اللہ تعالیٰ ہم سے یہ مطالبہ ضرور کرتا ہے کہ ہم ہر وقت اور ہر طرح یہ کوشش