خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 361
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۱۹ /اگست ۱۹۶۶ء اموال کے بڑھانے کے کچھ طریق بھی رکھے ہیں تم اپنی طاقت سے بڑھ کر قربانی نہیں دے سکتے لیکن تم قربانی دینے کی طاقت کو ہر وقت بڑھا سکتے ہو۔پس قربانی دینے کی طاقتوں کو تم بڑھاؤ۔تین موٹی باتیں میں اس وقت دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔(۱) اوّل۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعی۔(النجم :۴۰) ایک تو اس کے معنی یہ ہیں کہ مالی اور اقتصادی لحاظ سے تم جس مقام پر بھی ہو۔وہ تمہارا آخری مقام نہیں۔مزید ترقیات کے دروازے تمہارے سامنے ہیں۔جنہیں تم اپنی سعی سے، اپنی کوشش سے، اپنی جد و جہد سے، اپنی محنت سے کھول سکتے ہو۔یعنی اگر تم اپنے پیشہ میں مزید مہارت حاصل کرلو جتنی محنت اور توجہ سے تم اس وقت کام کر رہے ہو۔اس سے زیادہ محنت اور توجہ سے کام کرو اور جو ذرائع تمہیں میسر آئے ہوئے ہیں ان کو تم پہلے سے زیادہ بہتر طریق پر استعمال کرو۔یعنی تدبیر کو اپنے کمال تک پہنچاؤ اور اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا ئیں بھی کرتے رہو کہ وہ تمہارے اموال میں برکت ڈالے اور تمہاری کوششوں کو بار آور کرے تو اس کے نتیجہ میں تمہارے اموال بڑھ جائیں گے اس کے ساتھ ہی مالی قربانی کی استعداد بھی مثلاً اگر ہم میں سے ہر ایک کی آمد بڑھ جائے لیکن جذبہ ایثا را تنا ہی رہے جتنا پہلے تھا تب بھی کمیت کے لحاظ سے ہماری مالی قربانی میں بڑا نمایاں فرق آجاتا ہے۔مثلاً ایک شخص کی آمد ایک سو روپیہ ماہوار ہے اور وہ اپنے جذبہ ایثار سے مجبور ہو کر اور اپنی استعداد کے مطابق اس میں سے ہیں فیصد روپیہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔اگر وہ محنت کرے، اگر وہ اپنے علم میں زیادتی کرے، اگر وہ اپنے ذرائع کو بہتر طریق پر استعمال کرے اور اگر وہ اپنی دعاؤں کے نتیجہ میں اپنی آمد کوسو سے دوسو ماہانہ کر دے اور اس کی قربانی میں فیصد ہی رہے تو پہلے وہ بیس روپے ماہوار دیتا تھا اب وہ چالیس روپے ماہوار دے گا۔تو کمیت کے لحاظ سے مالی قربانی میں دگنا اضافہ ہو جائے گا کیونکہ اس کی آمد پہلے کی نسبت دگنی ہوگئی۔(۲) ایک اور طریق اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ تم اپنے خرچ کو اسلام کی تعلیم کے مطابق ضبط میں لاؤ ، سادہ زندگی گزارو۔رسم و رواج جو بیاہ شادیوں کے موقع پر یا موت فوت