خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 340 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 340

خطبات ناصر جلد اول ۳۴۰ خطبہ جمعہ ۲۹؍جولائی ۱۹۶۶ء اس سے طاقت حاصل کر کے میلان گناہ کو دبانے اور نفس امارہ کو پوری طرح کچل دینے کی قوت پاتا ہے۔وہی رحیم و مہربان ہے۔جو محض اپنے فضل و احسان سے تو بہ کو قبول کرتا ہے اور بھٹکے ہوئے راہی کو جب وہ رجوع بمولی ہو معصومیت کی چادر میں لپیٹ لیتا ہے اور اس سے راضی ہو جاتا ہے۔وہی ہے جو اباء اور استکبار کرنے والوں کو اور انہیں جو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور شیطان کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں سخت سزا دیتا ہے اور اپنی قہری بجلی کے ساتھ ان کی اصلاح کے سامان پیدا کرتا ہے۔وہی ہے جو بہت ہی احسان کرنے والا ہے اور جس کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔محبت اور پرستش کا وہی ہاں صرف وہی سزا وار ہے۔اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اسی سے اپنے کئے کی جزا پانا ہے اور بہتر اور احسن جزا وہی پائیں گے جو اس کی تعلیم پر عمل کریں گے۔ان مختصر سی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آٹھ اندرونی خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔(1) پہلی خوبی اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے۔تَنْزِيلُ الْكِتَبِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ کہ یہ کتاب اس اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو العزیز صفت سے متصف ہے۔جو غالب ہے اور کوئی اور ہستی اس پر غالب نہیں آسکتی۔کیونکہ اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں۔عزیز کے ایک معنی اس قسم کی عزت اور طاقت اور غلبہ رکھنے والی ہستی کے ہوتے ہیں کہ جس کے مقابلہ میں اس جیسی قوت اور طاقت اور غلبہ رکھنے والی کوئی اور ہستی نہ ہو۔اس لحاظ سے وہ بے مثل ہو۔تو اس ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اس عزیز خدا کی طرف سے جو کتاب نازل کی گئی اس کتاب میں بھی یہ خوبی ہے کہ وہ بے مثل ہے۔ایسی خوبیوں کی حامل ، رضا البی کی اس قدر فراخ را ہیں دکھانے والی ہے کہ دنیا میں جس قدر کتب سماوی گزری ہیں وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں اور نہ کسی انسان کی طاقت میں یہ ہے کہ اس کا مثل معرض وجود میں لا سکے۔اس کتاب میں کامل حسن اور کامل تعلیم اور کامل ہدایت پائی جاتی ہے۔اس بے مثل اور یگانہ ذات کے پر تو نے اس کتاب کو بھی بے مثل کر دیا ہے۔اگر تم اس کتاب کی تعلیم پر عمل کرو گے تو تم بھی ایک واحد ویگانہ بے مثل قوم بن جاؤ گے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرما یا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ