خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 332
خطبات ناصر جلد اول ۳۳۲ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء اصولی قوانین ہیں جو کسی نہ کسی پیرائے میں قرآن کریم میں بیان ہو گئے ہیں۔کوئی مثال دیتے ہوئے ، کسی چیز کی وضاحت کرتے ہوئے کبھی اپنی طاقتوں کے اظہار کے لئے، کبھی اپنی صفات کے بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ یہ اصول بھی بیان کر جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جس کے اندر چوتھی صفت یہ پائی جاتی ہے کہ یہ قرآن ہے کہ اس میں تمام پہلی کتب سماویہ کے بنیادی اصول بھی ہیں اور تمام علوم مادی کے بنیادی اصول بھی اس میں بیان کر دیئے گئے ہیں اس لئے دین اور دنیا کی اگر تم ترقی چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم اس قرآن کی جو قرآن ہے ہر لحاظ سے پیروی کرنے والے اور اس سے فائدہ اُٹھانے والے بنو۔(۵) پھر اللہ تعالیٰ نے پانچویں صفت اس کتاب مجید کی یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ قرآن ہی نہیں عربی ہے۔عربی کے معنی ایک ایسی کتاب کے ہیں جو حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کرنے والی ہو۔اس کے ایک دوسرے معنی یہ ہیں کہ وہ کتاب جو منسوخ کرنے والی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو قرآن ہے۔یعنی پہلی تمام کتب سماویہ کی بنیادی حقیقتیں اس کے اندر جمع ہیں۔دراصل پہلی کتب سماویہ کی تمام بنیادی حقیقتیں قرآن کریم کا ہی حصہ ہیں اور پہلے لوگوں کو وقتی ضرورت کے مطابق قرآن کریم کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ بعض صداقتیں پہلی کتب میں ایسی تھیں جو پورے طور پرا قرآن میں بیان کی جاسکتی تھیں یعنی قرآن کریم کا ہی ایک حصہ پہلی اُمتوں کو دیا گیا تھا مگر کچھ زائد صداقتیں تھیں جو اس قرآن کا حصہ تھیں مگر پہلے لوگ اس کو سمجھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ ان کو نہیں ملیں۔پس قرآن کامل اور مکمل شکل میں اُمتِ مسلمہ کو عطا ہوا۔لیکن اس جز وی شکل میں اس کو منسوخ کر دیا گیا۔پس یہ قرآن ہر پہلی کتاب کو منسوخ کرنے والا ہے۔اب اگر کوئی شخص یہ کہے جیسا کہ بعض دفعہ بعض عیسائی یا بعض ہندو کہا کرتے ہیں کہ ہم بھی