خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 327
خطبات ناصر جلد اول ۳۲۷ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء بھی اس کی خوشنودی کے لئے بجالائیں گے۔ہم جو قربانیاں اس کی رضا کی خاطر کریں گے۔ہم جو ایثار کے نمونے محض اور محض اس کے لئے دنیا کے سامنے پیش کریں گے وہ قادر ہستی اس بات پر قادر ہے کہ ہمارے ان اعمال کا بدلہ دے اور جزاء دے۔بہت دفعہ اس دنیا میں انسان انسانوں کی اس رنگ میں خدمت کرتا یا خوشامد کرتا ہے کہ جتنا بدلہ اس خوشامد اور اس خدمت کا خوشامد کرنے والے اور خدمت کرنے والے کو ملنا چاہیے۔وہ بدلہ وہ شخص دے ہی نہیں سکتا اور نہ اس کی طاقت میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کا بدلہ دے اور جو مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں اور پوجا کرتے ہیں ان کے لئے قربانیاں دیتے ہیں۔مثلاً ہم سے بھی بہت زیادہ قربانیاں دینے والی اس وقت دنیا میں عیسائی قوم ہے۔وہ عیسی یسوع مسیح جن کو انہوں نے خدا بنا دیا ہے۔ان کی خاطر جانی قربانی بھی دے رہے ہیں اور مالی قربانی بھی دے رہے ہیں۔ان کی عورتیں بھی اور ان کے مرد بھی انتہائی قسم کی قربانیاں اپنے باطل مذہب اور شرک کی خاطر وہ اس وقت دے رہے ہیں اور اپنے اس معبود کی خدمت میں جو دراصل مردہ ہے زندہ نہیں (پاک نبی ہونے کے لحاظ سے تو زندہ ہیں لیکن بطور معبود ہونے کے وہ اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ) ان کی خدمت میں وہ ایثار کے نمونے پیش کر رہے ہیں کہ آدمی کو بعض دفعہ ان پر رشک آتا ہے۔افریقہ کے جنگلوں میں جا کر ، اربوں ڈالر خرچ کر کے، اتنے پیسے ہونے کے باوجود بھی ہر قسم کی جذباتی اور جسمانی تکلیف گوارا کر کے وہ لوگوں میں عیسائیت پھیلانے میں کوشاں ہیں لیکن جس کے لئے وہ یہ کوششیں کر رہے ہیں اور قربانیاں دے رہے ہیں اور اموال کو خرچ کر رہے ہیں اس میں یہ طاقت نہیں کہ ان لوگوں کو ان قربانیوں کا بدلہ دے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ ہم کسی ایسی ہستی کے لئے ایثار اور قربانی نہیں مانگ رہے جس میں بدلہ دینے کی طاقت ہی نہ ہو بلکہ قرآن کریم کی ہدایات کے مطابق تم جو تکالیف بھی برداشت کرو۔جو مجاہدات بھی بجالاؤ۔جو قربانیاں بھی دورہ اس خدائے رحیم کے لئے ہوں گی کہ جس کی طاقت میں ہے کہ جتنا تم کرو اس سے زیادہ تمہیں بدلہ میں دے کیونکہ رحیمیت کے ساتھ