خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 322 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 322

خطبات ناصر جلد اول ۳۲۲ خطبہ جمعہ ۱۵؍جولائی ۱۹۶۶ء ڈاکو نمبر ۱۰ رہا کرتا تھا۔رات کے ایک بجے پولیس اسے اس کے گھر جا کر دیکھا کرتی۔ابھی وہ پولیس کا آدمی واپس قادیان نہ پہنچتا تھا کہ یہ چوری کے لئے نکل کھڑا ہوتا۔ایک دن وہ ہماری کوٹھی میں جو حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں بنا کر دی تھی ، عین سحری کے وقت پہنچا اور ایک چیز چرائی۔ہمارا ایک نوکر تھا اسے جب معلوم ہوا تو یہ بھاگ گیا۔بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ یہ اس شخص کا کام ہے۔تو جو شخص ایک یا دو بجے رات تک شریفانہ طور پر گھر میں وقت گزارتا رہا اور اس کے معاً بعد وہ چوری کے لئے نکل گیا تو قانون کی نگاہ میں وہ یقینا چور ہے۔وہ شخص جو رات کو تین گھنٹے تک تہجد کی نماز ادا کر تا رہا پھر دن کو اس نے کسی کا مال غصب کر لیا تو خدا کی نگاہ میں وہ حرام خور ہے تہجد گزار نہیں۔اسی واسطے ہمیں اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب تک ہماری ساری تدابیر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے نیچے نہیں آجاتیں۔اس وقت تک ہماری عبادت خدا کی عبادت کہلانے کی مستحق نہیں ہوسکتی۔حقیقی عبادت اسلام کے نزدیک جیسا کہ اس آیت سے پتہ چلتا ہے یہ ہے کہ خالصتاً اس کی اطاعت ہو۔اس کی اطاعت میں ریاء نہ ہو۔تمام احکام الہی کی پیروی کی جائے۔مثبت احکام کی مثبت طریق پر اور منفی احکام کی منفی طریق پر۔فرمایا کہ کوئی زمیندار ہے، کوئی ڈاکٹر ہے، کوئی بارایٹ لاء ہے وغیرہ۔یہ تمہاری تدبیریں ہیں لیکن یا درکھو کہ جب تک تم اپنی تدابیر کو مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ کے ماتحت رکھو گے تو تمہاری عبادتیں قبول ہوں گی اور جب ان میں اخلاص نہ ہوگا اور اطاعت نہ ہوگی تو یقیناً وہ قبول نہ ہوں گی۔اس لئے میں جماعت کے بھائیوں اور بہنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف احمدی کہلانا یا بیعت کر لینا کافی نہیں بلکہ آپ کا فرض ہے کہ قرآن کریم کی اور اسلام کی دنیا میں عزت قائم کریں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بلند کرنے والے ہوں۔لیکن یہ کام ہرگز نہیں ہو سکے گا جب تک کہ دل میں اس کی محبت نہ ہو۔جب تک کہ قرآنِ پاک کا علم آپ کو حاصل نہ ہو۔جب تک کہ آپ اس کو کما حقہ سمجھنے والے نہ ہوں اور جب تک کہ ہمیشہ اس کے متعلق غور و فکر کرنے والے نہ ہوں۔پس جب تک آپ قرآن کریم کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔