خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 17 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 17

خطبات ناصر جلد اول ۱۷ خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر ایک قوت اور طاقت تجھ ہی کو ہے۔آمین ثم آمین وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى الراقم خاکسار غلام احمد از قادیان ان مبارک اور دعاؤں بھرے الفاظ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جلسہ کی ابتدا کی اور خدا تعالیٰ کا فعل یہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے جو کچھ بتایا تھاوہ اپنے وقت پر پورا ہوا اور جب ہم گذشتہ جلسوں کی حاضری پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سوائے ایک ابتلا کے سال کے کوئی جلسہ ایسا نہیں گزرا جس میں، آنے والوں کی تعداد۔حضرت مسیح موعود کی آواز پر لبیک کہنے والوں کی تعداد، ان برکتوں اور رحمتوں اور فضلوں سے حصہ پانے والوں کی تعداد جو فضل اور رحمت اور برکت اللہ تعالیٰ نے جلسہ میں شمولیت کرنے والوں کے لئے مقدر کر رکھی ہے بڑھتی نہ چلی گئی ہو۔البتہ میں نے بتایا ہے کہ ایک سال چھوٹے سے ابتلا کا دور جماعت پر ضرور آیا۔اس سے بھی آج ہمیں سبق لینے کی ضرورت ہے۔دیکھئے پہلے جلسہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مشاورت کے لئے منعقد فرمایا تھا ۷۵ احباب شریک ہوئے اور پھر یہ تعداد ان تمام مخالفتوں کے باوجود اور ان تمام کوششوں کے باوجود جو جماعت احمدیہ کو مٹانے کے لئے مخالف کرتے رہے سال بسال بڑھتی ہی چلی گئی۔حتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ ۱۹۰۷ ء میں ہوا اس میں بدر ۹ جنوری ۱۹۰۸ ء کے مطابق حاضرین کی تعداد تین ہزار تھی۔اب اگلے جلسہ سے ابتلا کا دور شروع ہوا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ۱۹۰۸ ء میں جو پہلا جلسہ ہوا۔یا یوں کہیے کہ خلافت اولی کے زمانہ کا پہلا جلسہ اس میں یہ تعداد گر کر دو ہزار پانچ سو (۲۵۰۰) پر آ گئی۔کچھ تو شاید اس وجہ سے کمی ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر بہت سے لوگ دیوانہ وار قادیان کی طرف