خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 308
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۰۸ خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۶۶ء خلیفہ وقت کا سب سے بڑا اور اہم کام یہی ہوتا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم کو رائج کرنے والا ہو اور نگرانی کرنے والا ہو کہ وہ لوگ جو سلسلہ حقہ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں کیا وہ قرآن کریم کا جوا ا اپنی گردنوں پر رکھنے والے ہیں؟ اور اس سے منہ پھیر نے والے نہیں بلکہ اس کی پوری پوری اطاعت کرنے والے ہیں۔میری اس تحریک پر جماعتوں نے توجہ دی۔بہت سی جماعتوں کی طرف سے تو بہت اچھی رپورٹیں مل رہی ہیں لیکن بعض جماعتیں ابھی ایسی بھی ہیں جہاں ابھی تک یہ کام شروع نہیں ہوا اور بعض جماعتوں کے متعلق یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ کام شروع ہونے کے بعد پھر ستی کے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔میں پھر تمام جماعتوں کو ، تمام عہدیداران خصوصاً امراء اضلاع کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ قرآن کریم کا سیکھنا، جاننا ، اس کے علوم کو حاصل کرنا اور اس کی باریکیوں پر اطلاع پانا اور ان راہوں سے آگاہی حاصل کرنا جو قرب الہی کی خاطر قرآن کریم نے ہمارے لئے کھولی ہیں از بس ضروری ہے۔اس کے بغیر ہم وہ کام ہر گز سر انجام نہیں دے سکتے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔پس میں آپ کو ایک دفعہ پھر آگاہ کرتا ہوں اور متنبہ کرتا ہوں کہ آپ اپنے اصل مقصد کی طرف متوجہ ہوں اور اپنی انتہائی کوشش کریں کہ جماعت کا ایک فرد بھی ایسا نہ رہے نہ بڑا نہ چھوٹا ، نہ مرد نہ عورت ، نه جوان نہ بچہ کہ جسے قرآن کریم ناظرہ پڑھنا نہ آتا ہو جس نے اپنے ظرف کے مطابق قرآن کریم کے معارف حاصل کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے کی اور پھر انہیں نبھانے کی توفیق دے اور مجھے بھی توفیق دے کہ جب تک آپ اس بنیادی مقصد کو حاصل نہیں کر لیتے ، اس رنگ میں آپ کی نگرانی کرتا رہوں جس رنگ میں نگرانی کرنے کی ذمہ داری مجھ پر عائد کی گئی ہے۔وَمَا تَوْفِيقُنَا الَّا بِاللهِ (روز نامه الفضل ربوہ ۲۷ / جولائی ۱۹۶۶ ء صفحہ ۲، ۳)