خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 307 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 307

خطبات ناصر جلد اول ۳۰۷ خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۶۶ء جاتا ہے اور رکھا جانا چاہیے ) کہ جس کا احسان آئندہ نسلوں پر ہو اور اس طرح آئندہ نسلیں اس شخص، گروہ یا سلسلہ کو یا د رکھتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ پہلوں نے ہم پر بڑے احسان کئے ہیں اور ہمیں ان احسانوں کو بھولنا نہیں چاہیے۔مثلاً ہم احادیث کے جمع کرنے والے بزرگوں کا ادب اور احترام اور دعا کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ان کا ذکر خیر اسی وجہ سے قائم ہے کہ ان لوگوں نے اپنی زندگیاں ہمارے فائدے کے لئے صرف کر ڈالیں۔ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو جمع کیا۔ان کی چھان بین کی اور انہیں ہم تک پہنچانے کا انتظام کیا۔اس احسان کے بدلہ میں ان کا ذکرِ خیر نَسُلًا بَعْدَ نَسْلٍ ہم تک چلا آیا اور آئندہ چلتا چلا جائے گا۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو ہر لحاظ سے کامل ومکمل ہونے کے علاوہ یہ خوبی بھی اپنے اندر رکھتی ہے کہ جب کوئی اس پر عمل کرتا ہے تو وہ صرف اسی نسل کو زیر بارا احسان نہیں کر رہا ہوتا جس کا وہ ایک فرد ہوتا ہے بلکہ اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس سے نیکیوں اور خیر کے وہ کام لیتا ہے جس کے نتیجہ میں آئندہ نسلیں بھی اس کے احسان کے نیچے دبی ہوتی ہیں۔وہ اس کے اس احسان کو پہچانتی ہیں اور اس کی وجہ سے اس کی شکر گزار ہوتی ہیں۔اس لحاظ سے یہ قرآن اس کے لئے القیت ذکر خیر کے جاری رہنے کا موجب بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق بہت سی تعریفیں خود اس میں بیان فرمائی ہیں۔اس چھوٹی سی آیت میں بھی بہت کچھ بیان کیا گیا ہے جس کی طرف میں نے اس وقت محض اشارے کئے ہیں لیکن ان اشارات سے بھی ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اگر ہم اس دنیا میں عزت اور شرف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اگر ہمارے دل میں یہ خواہش ہے کہ ایک طرف ہمارا رب ہم سے راضی ہو جائے اور دوسری طرف آئندہ نسلیں بھی ہمیں نیک نام سے یاد کریں۔ہمارے لئے دعا کرنے والی ہوں اور خدا کے حضور گڑ گڑانے والی ہوں کہ اے خدا ان لوگوں پر اپنی زیادہ سے زیادہ رحمتیں نازل کرتا چلا جا۔تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن کریم کو سیکھیں، جانیں اور اس کی اتباع کریں اور اس کو ہر وقت اپنے سامنے رکھیں۔اسی لئے میں نے قرآن کریم سکھنے اور سکھانے کی طرف جماعت کو تو جہ دلائی تھی۔