خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 16
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۶ خطبہ جمعہ ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء کو بے جماعت نہیں چھوڑتا۔انشاء اللہ القدیر سچائی کی برکت ان سب کو اس طرف کھینچ لائے گی۔خدا تعالیٰ نے آسمان پر یہی چاہا ہے اور کوئی نہیں کہ اس کو بدل سکے۔سولازم ہے کہ اس جلسہ پر جو کئی با برکت مصالح پر مشتمل ہے ہر ایک ایسے صاحب ضرور تشریف لاویں جو زادراہ کی استطاعت رکھتے ہوں اور اپنا سرمائی بستر لحاف وغیرہ بھی بقدرضرورت ساتھ لاویں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی راہ میں ادنی ادنیٰ حرجوں کی پرواہ نہ کریں۔خدا تعالیٰ مخلصوں کو ہر ایک قدم پر ثواب دیتا ہے اور اس کی راہ میں کوئی محنت اور صعوبت ضائع نہیں ہوتی اور مکر رلکھا جاتا ہے کہ اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قو میں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔عنقریب وہ وقت آتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ اس مذہب میں نہ نیچریت کا نشان رہے گا اور نہ نیچر کی تفریط پسند اور اوہام پرست مخالفوں کا ، نہ خوارق کے انکار کرنے والے باقی رہیں گے اور نہ ان میں بیہودہ اور بے اصل اور مخالف قرآنی روایتوں کو ملانے والے اور خدا تعالیٰ اس اُمت وسط کے لئے بین بین کی راہ زمین پر قائم کر دے گا۔وہی راہ جس کو قرآن لا یا تھا ، وہی راہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سکھلائی تھی ، وہی ہدایت جو ابتدا سے صدیق اور شہید اور صلحاء پاتے رہے۔یہی ہو گا ضرور یہی ہو گا۔جس کے کان سننے کے ہوں سنے۔مبارک وہ لوگ جن پر سیدھی راہ کھولی جائے۔بالآخر میں دعا پر ختم کرتا ہوں کہ ہر ایک صاحب جو اس للبی جلسہ کے لئے سفر اختیار کریں۔خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہم وغم دور فرمائے اور ان کو ہر ایک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور ان کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دے اور روز آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پر اس کا فضل و رحم ہے اور تا اختتام سفران کے بعد ان کا خلیفہ ہو۔اے خدا!! اے ذوالحجد والعطاء !!! اور رحیم اور مشکل کشا ! یہ تمام دعائیں قبول کر اور