خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 299 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 299

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۹۹ خطبہ جمعہ ۲۴ جون ۱۹۶۶ء ساری ہدایتوں اور سارے علوم کا جامع ہے اور اس سے بہتر اور احسن اور خوبصورت کتاب کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔یہ اپنی جنس میں سب سے اکمل کتاب ہے اسی لئے اس کی اتباع کرنے والوں کو اجر کریم ملتا ہے اور ملتا بھی آپ کریم کی طرف سے ہے۔باوجود ان خوبیوں کے اَفَبِهَذَا الْحَدِيثِ اَنْتُم مُّدُھنوں تم اس کلام کے بارے میں منافقانہ رویہ اختیار کرتے ہو اور تم خیال کرتے ہو کہ اگر ہم نے قرآن کریم کو صحیح رنگ میں ان کفار کے سامنے پیش کیا تو ہمیں شرمندہ ہونا پڑے گا ؟؟ مداہنت اور منافقت قریباً برابر ہے۔اور جو بات آية يُخْدِعُونَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (البقرة : ١٠) میں بیان ہوئی ہے وہ اِدُهَان اور مُدَاهَنَة ہی ہے۔اِدُهَان اور مُدَاهَنَة کے ایک ہی معنی ہیں تو فرمایا کہ کیا تم مداہنت سے کام لیتے ہو ؟ نفاق سے کام لیتے ہو۔تمہارے دل میں کچھ اور ہے اور ظاہر کچھ اور کرتے ہو اور پھر اتنے عظیم الشان کلام کے متعلق؟؟؟ فرمایا۔پھر بعض تم میں سے ایسے ہیں وَ تَجْعَلُونَ رِزْقَكُم أَنَّكُمْ تُكَذِبُونَ (الواقعة : ۸۳) کہ تم نے انکار کو اپنا حصہ بنالیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو یہ کتاب اس لئے نازل کی تھی کہ تم اس پر ایمان لاکر ان فوائد اور فیوض کو حاصل کرو جو اس کی اتباع کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے ہیں۔مگر تم نے اس کی اتباع سے انکار کیا۔اس دنیا میں بھی اور اُخروی زندگی میں بھی رب کریم کا فیصلہ تمہارے حق میں خوشی اور رضا کا نہیں۔بلکہ غصہ اور قہر کا فیصلہ ہو گا۔اس دنیا میں بھی جہنم تمہارے حصہ میں آئے گی اور اُخروی زندگی میں بھی ایک لمبا عرصہ تک تم جہنم میں رہنے والے ہوگے۔غرضیکہ اس آیت کا تعلق ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے ساتھ ہے اور بڑا عظیم الشان مضمون اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔اس کے بعد سوال ہوتا ہے کہ اتنی عظیم الشان کتاب کا علم ہم کیسے حاصل کریں؟ فرمایا خدائے رحیم کے سامنے جھکو جو انسان کی کوشش اور محنت کو بار آور بناتا ہے۔کیونکہ یہ قرآن فی کتاب مکنون پردوں میں چھپی ہوئی محفوظ کتاب کے اندر ہے۔اس کی ہدایتیں غطاء ( پردے) کے اندر ہیں مَكْنُونِ کے معنی ہیں وہ چیز جو ایسے پردے