خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 15
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۵ خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء تاریخ مقررہ پر حاضر ہونے کے لئے اپنی آئندہ زندگی کے لئے عہد کر لیں اور بدل و جان پختہ عزم سے حاضر ہو جایا کریں بجز ایسی صورت کے کہ ایسے موانع پیش آجائیں۔جن میں سفر کرنا اپنی حد اختیار سے باہر ہو جائے اور اب جو ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۱ء کو دینی مشورہ کے لئے جلسہ کیا گیا اس جلسہ پر جس قدر احباب محض اللہ تکلیف سفر اٹھا کر حاضر ہوئے۔خدا تعالیٰ ان کو جزائے خیر بخشے اور ان کے ہر ایک قدم کا ثواب ان کو عطا فرمائے۔آمین ثم آمین پھر جب جلسہ کے ایام قریب آئے تو دسمبر ۱۸۹۲ء کے شروع میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے احباب جماعت کو ان الفاظ میں تو جہ دلائی۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔بعد ہذا بخدمت جمیع احباب مخلصین التماس ہے کہ ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۲ء کو مقام قادیان میں اس عاجز کے محبوں اور مخلصوں کا ایک جلسہ منعقد ہو گا اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اُٹھانے کا موقعہ ملے اور ان کے معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔پھر اس کے ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا اور اس جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پذیر ہوں گے۔ماسوا اس کے کہ اس جلسہ میں یہ بھی ضروریات میں سے ہے کہ یورپ اور امریکہ کی دینی ہمدردی کے لئے تدابیر حسنہ پیش کی جائیں کیونکہ اب یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یورپ اور امریکہ کے سعید لوگ اسلام کے قبول کرنے کے لئے تیار ہورہے ہیں اور اسلام کے تفرقہ مذاہب سے بہت لرزاں اور ہراساں ہیں چنانچہ انہی دنوں میں ایک انگریز کی میرے نام چٹھی آئی جس میں لکھا تھا کہ آپ تمام جانداروں پر رحم رکھتے ہیں۔اور ہم بھی انسان ہیں ور مستحق رحم ، کیونکہ دین اسلام قبول کر چکے اور اسلام کی سچی اور صحیح تعلیم سے اب تک بے خبر ہیں۔سو بھائیو! یقیناً سمجھو کہ یہ ہمارے لئے ہی جماعت تیار ہونے والی ہے۔خدا تعالیٰ کسی صادق